انقلاب مارچ کے شرکا زیادہ منظم

Image caption طاہرالقادری کے انتظار میں سڑک کے دونوں ٹریکس لوگوں سے بھرے ہوئے تھے جس میں سے ایک پر خواتین اور دوسرے پر مرد تھے

’بھائی برا نہیں مانیے گا آپ کو چیک کرنا ہے۔‘

یہ الفاظ اُس نوجوان کے تھے جس کے پاؤں میں پہنی ہوئی سینڈل میں کیچڑ سوکھ چکا تھا۔ کپڑے گیلے ہوکر آدھے سوکھ چکے تھے سر پر رومال باندھا ہوا تھا اور سینے پر طاہر القادری کی تصویر والا بیج اور گلے میں انتظامیہ کا کارڈ لٹک رہا تھا۔

انھوں نے میڈیا کے کارڈ کو دیکھتے ہوئے بڑے نرم لہجے میں مجھ سے تلاشی دینے کو کہا تھا۔ میرے خیال ہے اُس وقت تک وہ کم از کم 400 مرتبہ مختلف لوگوں کی تلاشی لینے کے لیے جُھک لے چکے ہوں گے لیکن ان کے اخلاق میں جھکاؤ نہیں آیا تھا۔

تلاشی کے بعد جب میں آبپارہ چوک پر پہنچا تو میرے سامنے سٹیج کے لیے ایک کرین کی مدد سے کنٹینرز رکھے جا رہے تھے۔ دائیں ہاتھ پر سڑک کے دونوں ٹریکس لوگوں سے بھرے ہوئے تھے جس میں سے ایک پر خواتین اور دوسرے پر مرد تھے اور بائیں جانب سڑک شاہراہ دستور کی جانب جا رہی تھی۔

اِس جانب سکیورٹی کی کئی صفیں تھیں۔ پہلے میں فطری تجسس کی وجہ سے بائیں جانب گیا۔ لگتا تھا وہاں موجود تمام افراد کو میڈیا کا ’خاص خیال‘ رکھنے کو کہا گیا تھا کیونکہ سب نے آگے جانے کا راستہ بغیر کچھ کہے دے دیا۔

یہاں سکیورٹی کی پہلی اور دوسری صف نوجوان لڑکوں کی تھی جو ہاتھ میں ڈنڈے تھامے سڑک پر کھڑے اور اور نہ جانے کب سے کھڑے تھے۔

Image caption جو نوجوان لڑکیاں زمین پر بیٹھی تھیں وہ مدرسے کی طالبات تھیں جن کو سکیورٹی کی ذمہ داری دی گئی تھی

اُس کے بعد میں نے دیکھا کئی نوجوان لڑکیاں زمین پر قطار بنائے بیٹھی ہیں اور اُن کے پاس ڈنڈے اور پانی کی بوتلیں موجود ہیں اور اُن کے پیچھے کنٹینرز کھڑے تھے جو کہ اِس بات کا واضح ثبوت تھے کہ اِس سے آگے نہیں جانا ہے کیونکہ پھر آپ شاہراہ دستور سے مزید قریب ہو جاتے اور شاید اُس جگہ سے بھی جہاں سے اِن لوگوں کو دور رکھنے کی بڑی کوششیں کی گئیں۔

جو نوجوان لڑکیاں زمین پر بیٹھی تھیں وہ مدرسے کی طالبات تھیں جن کو سکیورٹی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ میں جب اُن کی نگراں خاتون سے بات کر رہا تھا تو اُسی دوران وہاں ایک شخص شربت کا کولر لے آیا اور اُس نے شربت بانٹنا شروع کیا لیکن مجال ہے کہ شربت کے حصول کے لیے کوئی لڑکی اپنی جگہ سے اٹھی بھی ہو۔

جتنی دیر میں وہاں رہا کسی نوجوان، مرد، بوڑھے، خاتون کو ایک دوسرے سے چیخ کر بات کرتے، ایک دوسرے سے مذاق کرتے یا پھر جھلاتے ہوئے نہیں دیکھا۔باوجود اِس کے کہ یہ سب لوگ پوری شام اور پوری رات بارش میں بھیگے تھے اور نیند کی کمی کی وجہ سے تھکن اور بھوک اُن کے چہروں پر عیاں تھی۔

کئی عمر رسیدہ یا ادھیڑ عمر افراد وہیں سڑک کنارے ایک پتلی سی چادر پر اتنی بے فکری سے سو رہے تھے کہ جیسے ریشم و کمخواب کے بستر پر اپنے محل میں لیٹے ہوں۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ’نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔‘

آبپارہ چوک کے قریب فوڈ سٹریٹ ہے لہٰذا پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کو کھانے کی چیزیں تو آرام سے مل رہی تھیں لیکن اُس تھکن کا کیا کیجیے جو اپنے رہنما طاہر القادری کی عدم موجودگی کی وجہ سے اِن کو زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔

کرین کا آپریٹر جو کنٹینر لگا رہا تھا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اُن کو اپنا کام کرنے میں دشواری ہو رہی ہے تو اُنھوں نے بتایا کہ یہ لوگ مطمئن نہیں ہو رہے ہیں تیسری بار سٹیج کی جگہ تبدیل ہو رہی ہے اور یہاں جگہ بھی کم ہے اِس لیے کنٹینرز کو ہلانے جلانے میں مشکل ہوتی ہے لیکن یہ لوگ ’خیال‘ رکھتے ہیں۔

Image caption سکیورٹی کی پہلی اور دوسری صف نوجوان لڑکوں کی تھی جو ہاتھ میں ڈنڈے تھامے سڑک پر کھڑے

مجھے ایسا لگا کہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ اُسے کیا کرنا ہے اور ہر ایک اپنے کام میں لگا ہوا ہے اور جسے کچھ نہیں کرنا وہ یا تو سو گیا یا بیٹھ کر ’قبلہ‘ یعنی طاہر القادری کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ لوگ مجھے زیادہ منظم اور مستعد لگے لیکن یہ سب جب تک ہے جب تک آپ کی نگاہ اوپر رہے جب آپ سڑک پر دیکھیں تو دل برا ہو جائے گا کیونکہ لاکھ منظم ہونے کے باوجود کھانے پینے کی اشیاء، کاغذ اور دیگر چیزیں یہاں بھی سڑک پر ویسی ہی بکھری نظر آئیں گی جیسی سڑک پار کر کے نظر آتی ہیں یعنی تحریک انصاف کے جلسے میں۔

اسی بارے میں