’چانس بار بار نہیں ایک بار ملتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’عمران خان کے ساتھ ایک نئی نسل اٹھی ہے تو اپنے لیے یہ جیسا ملک چاہتے ہیں وہ ویسا ہی بنا کر رہیں گے‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی قیادت میں لاہور سے چلنے والا آزادی مارچ تقریباً 35 گھنٹوں کا سفر کر کے اسلام آباد پہنچا۔

آدھی رات کو بارش اور خراب موسم کے باوجود، اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں پہنچنے والی خواتین، نوجوان، بوڑھے اب آگے کیا کرنا چاہتے ہیں اس بارے میں وہ تاحال واضح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے ۔

اسد نامی نوجوان پشاور سے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہےکہ وہ اور ان کے دوست اس جلسے میں عمران خان کو قریب سے دیکھنے آئے۔

اسد کے مطابق، عمران خان کو دیکھنے کا موقع گزشتہ سال اس لیے ضائع ہوا جب وہ ایک انتخابی جلسے کے دوران سٹیج سے گر کر ہسپتال کے بستر پر پڑ گئے اور پھر انتخابی مہم میں شریک نہیں ہو سکے ۔

سعد محمد کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور وہ ایک پرائیوٹ فرم میں نوکری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ وہ عمران خان کے مقصد کی حمایت میں یہاں آئے ہیں اور ’وہ مقصد یہ ہے کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارا ووٹ کہاں گیا ؟‘

ڈاکٹر بشریٰ قیصر کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ’تبدیلی آنی چاہیے، بہت انتظار ہوگیا۔ عمران خان نے پوری قوم کو سیاست کی راہ دکھائی ہے تو پھر ہم کیوں اپنا حق نہ مانگیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارا ووٹ کہاں گیا‘

مگر جس تبدیلی کی ڈاکٹر بشریٰ اور ان کے ساتھ کھڑی خواتین کو تلاش ہے وہ دراصل ہے کیا؟

اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ کسی حکومت نے پہلے نوجوانوں کی بات نہیں کی۔ ’عمران خان کے ساتھ ایک نئی نسل اٹھی ہے تو اپنے لیے یہ جیسا ملک چاہتے ہیں وہ ویسا ہی بنا کر رہیں گے ۔ یہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہے۔‘

فردوس رائے کی ایک اور ساتھی اور فیصل آباد کی رہائشی پروین زمان کہتی ہیں کہ ’60، 65 سال کی دھاندلی ختم ہو جائے گی جو ہر دفعہ آتی تھی۔ سب سے مرکزی وجہ یہی ہے کہ انصاف ملے گا، آج ایک سال میں حکومت صرف دھاندلی کی وجہ سے ختم ہونے جا رہی ہے۔‘

فرح آغا ، تحریک انصاف کی نارتھ ریجن کی نائب صدر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’بارش اور خراب موسم میں آپ یہ نہ سمجھیں کہ کچھ فرق پڑے گا۔ ہم بہت پرجوش ہیں ہمیں یقین نہیں تھا کہ ہم اتنی جلدی اپنا مقصد حاصل کر لیں گے، خان صاحب اپنی تمام شرطیں یہاں رکھیں گے اور انہیں ماننی پڑے گی۔ عوام ہی ان سب کو بناتی ہے اور عوام ہی فیصلہ کر چکی ہے کہ اب ہمیں یہ سب نہیں چاہیے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’عوام ہی فیصلہ کر چکی ہے کہ اب ہمیں یہ سب نہیں چاہیے‘

محمد طارق خان داوڑ کا تعلق شمالی وزیرستان ایجنسی سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پچاس گاڑیوں کا قافلہ لے کر بنوں سے یہاں پہنچے ہیں اور ساتھ آنے والوں میں آئی ڈی پیز بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جس ظلم کے خلاف خان صاحب نے آواز اٹھائی ہے ہم اسے پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے اور اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک ہم اس سسٹم کو ٹھیک نہیں کرتے۔ چانس بار بار نہیں ایک بار ملتا ہے۔ یہ زبردست موقع ہے اگر ہم نے اسے ہاتھ سے جانے دیا تو آئندہ 20 سے 25 سال تک ہم اس کا انتظار کریں گے۔‘

اسی تبدیلی کے خواہاں سرگودھا سے آئے رانا سلیم بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا اور اپنے بچوں کے لیے اور اب پھر انہی کے لیے یہاں آئے ہیں۔

تاہم انھوں یہ بھی کہا کہ ’عمران خان کے دائیں بائیں کھڑے سیاستدانوں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ابھی بہت وقت لگے گا ۔ بس آپ دعا کریں کہ ہماری کوششیں رنگ لے آئیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو جائے۔‘

اسی بارے میں