کراچی:فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ bbcurdu
Image caption کراچی میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ریلی

’میں حماس ہوں‘ کی ٹی شرٹس، سروں پر پٹیاں اور گوریلا ڈریس میں ملبوس نوجوانوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور مردوں نے اتوار کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی مارچ کیا۔

پاکستان میں فلسطینی مسلمانوں کے حق میں ہونے والا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا جس میں جماعت اسلامی کے زیر انتظام اس مارچ میں حکمران مسلم لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی، جمیعت علما اسلام، جمعیت علما پاکستان، شیعہ تنظیموں، جماعۃ دعوۃ اور دیگر مذہبی جماعتوں نے بھی شرکت کی۔

لبیک یا غزہ کے گیتوں اور الجہاد الجہاد کے نعروں کی گونج میں حماس کے رہنما خالد مشعل نے بھی اس ریلی سے خطاب کیا اور عالم اسلام سے فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کی اپیل کی۔

جماعت اسلامی نے پانچ کروڑ روپے، چھ ایمبولینس اور طبی ٹیمیں غزہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو فلسطینی پتھروں اور غلیلوں سے لڑتے تھے، انہیں اسرائیل اور امریکہ ساٹھ سالوں میں شکست نہیں دے سکے اور نہ ہی اپنے مقصد سے ہٹا سکے۔

انہوں نے اسلامی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کے پاس افوا ج کی تعداد 70 لاکھ سے زیادہ ہے، اور تیل کی 70 فیصد پیداوار ان کے پاس ہے لیکن ان سب کے باوجود فلسطین جل رہا ہے اور عالم اسلام میں قبرستان جیسے خاموشی طاری ہے۔

’ اسلام آباد سمیت تمام اسلامی ممالک کے سربراہ اپنے مفادات کی لاشوں پر رو رہے ہیں، لیکن اہل غزہ کے لیے کوئی بھی رونے کے لیے تیار نہیں، ایک عرصہ گزر گیا کہ حکمرانوں نے اسلامی ممالک کی تنظیم کا اجلاس بھی طلب نہیں کیا، میں کہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے تو ہمارے نوجوانوں کو راستہ فراہم کریں۔‘

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہزاروں کا یہ اجتماع یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے مسلمان ایک جھنڈے تلے متحد اور فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کا کہنا تھا کہ وہ غزہ کی حماس، لبنان کی حزب اللہ، کشمیر کی حزب المجہادین اور افغانستان کے طالبان کو ان کی جدوجہد پر سلام کرتے ہیں۔

بقول منور حسن ’ان تحریکوں میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اگر مسلم ممالک کی فوجیں مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہیں کریں گی اور ان کے مقاصد کی آبیاری نہیں کریں گی تو ہر جگہ حماس اور طالبان اٹھ کر کھڑے ہوں گے۔‘

منور حسن نے جہادی تربیت اور انتظام پر بھی زور دیا اور ان کا کہنا تھا عسکری اور جہادی تربیت کے لیے جماعتوں کے ساتھ حکومتوں کو بھی کام کرنا چاہیے۔

یومِ فلسطین کے موقع پر کالعدم تنظیم جماعۃ الدعوۃ کی جانب سے بھی لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکہجتی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں۔

کراچی میں جماعت کے مرکزی رہنما عبدالرحمان مکی اپنے خطاب میں مارچ کو سیاسی نہیں جہاد کا اجتماع قرار دیا۔ انہوں نے شرکا سے ہاتھ اٹھاکر وعدہ لیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف جہاد کریں گے ۔

اسلام آباد میں جاری دھرنوں میں شامل افراد کی تعداد سے بڑا یہ اجتماع الیکٹرانک میڈیا میں جگہ حاصل نہیں کرسکا، جس پر مقررین کی جانب سے شکوہ شکایت بھی کی گئی۔

اسی بارے میں