’عمران کا درمیان میں ہی کھڑے رہنے کا فیصلہ‘

Image caption اتوار کی شام آزادی مارچ کے لیے کرسیوں کا انتظام بھی کیا گیا لیکن سٹیج کی جگہ بدل دی گئی اور کرسیاں پیچھے ہی رہ گئیں

اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں اتوار کو دو دن کی بارش کے بعد جس طرح موسم بدلا اسی طرح سے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کا رنگ بھی بدلا ہوا نظر آیا۔

انقلاب مارچ کا اجتماع میں شریک افراد کی تعداد میں بظاہر پہلے روز کی طرح کوئی کمی اور اضافہ نہیں ہوا۔ فرق صرف اتنا پڑا کہ انقلاب مارچ کے اطراف میں قناتیں لگ چکی ہیں جبکہ آزادی مارچ کی جانب جانے والا راستہ پہلے سے تھوڑا وسیع ہو گیا ہے۔

دوسری جانب آزادی مارچ میں داخل ہونے پر کرسیوں کی قطاریں نظر آئیں اور ان پر تھکے ہارے کارکن آرام کرتے نظر آئے اور ان کی آزادی مارچ کے کنٹینر سٹیج کی جانب سے جانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

تاہم گذشتہ دو دن کے برعکس اتوار کی رات کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد سٹیج کی جانب رواں دواں تھی۔ اس جلوس میں لوگ اپنے اہلخانہ کے ساتھ موجود تھے۔

اتوار کو سٹیج اپنے پرانی جگہ سے مزید تین سو گز آگے جا چکا تھا اور دن کے وقت میں لگائی گئیں کرسیاں پرانے کے سٹیج کے سامنے تک نظر آئیں۔

سٹیج پر عمران خان سمیت دیگر قیادت براجمان تھی اور اس کے سامنے پارٹی کے کارکن جھنڈے لہرا اور نعرے لگا رہے تھے اور رہنما ہاتھ ہلا ہلا کر ان کے جوش و جذبے کو داد دیتے رہے جبکہ اس دوران انتظامیہ سٹیج کے تبدیلی کے بعد انتظامی امور میں مصروف دکھائی دی۔

عمران خان کے خطاب شروع ہونے کے بعد آہستہ آہستہ ساؤنڈ سسٹم بحال ہونا شروع ہوا اور مجمعے کے آخر تک آواز سنائی دینے لگی۔

Image caption ’اپنے رہنما کی تقریر سے مایوسی ہوئی اسی وجہ سے واپس جا رہا ہوں‘

عمران خان نے جیسے ہی اعلان کیا کہ وہ آج اپنی زندگی کی اہم ترین تقریر کرنے لگے ہیں تو کارکنوں کا جوش دیکھنے کے قابل تھا۔

عمران کی تقریر شروع ہوئی تو اس دوران ایک دو بار درمیان میں روایتی طور پر پارٹی کے گانے بجائے گئے تو عمران خان نے فوراً انتظامیہ کو گانے آن کرنے سے منع کر دیا۔

اس کے بعد عمران خان نے وزیراعظم کے بارے میں اپنی اظہار کرتے ہوئے ساتھ ہی اپنی نیند کی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دن بھر سوچنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ملک میں سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے۔

خیال رہے کہ عمران خان گذشتہ رات کی تقاریر میں کئی بار اپنی نیند پوری نہ ہونے کا شکوہ کرتے رہے لیکن کارکن ان کو جلسہ گاہ سے جانے کی اجازت دینے پر رضامند نہیں تھے۔

خیر عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کے اعلان پر ہجوم کی جانب ’نہ نہ اور ہاں ہاں‘ کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

یہاں فوراً انتظامیہ کی جانب سے ساؤنڈ سسٹم پر پارٹی کا گانا چلانا شروع کر دیا اور اس کے بعد عمران خان اپنے سامنے جمع کارکنوں کے ردعمل کو اپنے اعلان پر قائل کرنا شروع کیا۔

لیکن عمران خان کے اعلان کے بعد اور ان کے تقریر شروع ہونے سے پہلے کے مناظر بدل گئے۔ تقریر سے پہلے ایک ہجوم سٹیج کی جانب جا رہا تھا تو اس اعلان کے بعد ایک ہجوم کا رخ واپسی کی طرف تھا۔

Image caption ’عمران خان کے تقریر سے مطمئن ہیں‘

ان میں شامل کراچی سے آنے والے محمد یوسف کچھ زیادہ ہی جذباتی نظر آئے کیونکہ ان کے خیال میں عمران خان نے توقعات کے برعکس کچھ نیا نہیں کہا اور سول نافرمانی کی تحریک سے کچھ بدلنے والا نہیں۔

اسی طرح راولپنڈی سے آنے والے ساجد بھے بجھے بجھے سے تھا کیونکہ انھوں نے کہا کہ عمران خان نے کہہ دیا کہ بل نہ دو، اگر نہیں دیتے تو اگلے ماہ ڈبل ہو کر آ جائیں گے، اس کے بعد کنکشن کٹ جائیں۔’میٹر کٹ گئے تو دوبارہ فیس ادا کر کے لگوانے پڑیں گئے، تو کیا عمران میٹر دوبارہ لگوانے آئیں گے۔‘

ساجد کے مطابق ’لگتا ہے کہ کوئی سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

تاہم سیالکوٹ سے ضیغم بخاری اپنے اہلخانہ کے عمران کی زندگی کی اہم ترین تقریر سننے خصوصی طور پر آئے تھے۔ ضیغم کے مطابق وہ عمران خان کی اعلان سے متفق ہیں کیونکہ اس سے حکومت مزید دباؤ میں آئے گی اور بالآخر وزیراعظم مستعفی ہو جائیں گے۔

تقریر میں انقلاب مارچ کے کارکن محمد اسامہ بھی موجود تھے۔اسامہ کے مطابق وہ یہ دیکھنے آئے تھے کہ عمران کیا اعلان کرتے ہیں لیکن مایوسی ہوئی ’تاہم عمران کی طرح ہمارے قادری پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

واپسی کے سفر پر جانے والے پارٹی کارکنوں کے ایک گروپ کے مطابق عمران اس سے آگے جاتے ہیں تو سیاسی موت، پیچھے جاتے ہیں تو سیاسی موت، تو آج انھوں نے اسی لیے درمیان میں کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔

واپسی پر انقلاب مارچ کے رہنماؤں کی تقاریر جاری تھیں جبکہ قناتوں کی دوسری جانب پنجاب پولیس اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد عتینات کی جا رہی تھی۔

اسی بارے میں