’پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے مطالبات غیر آئینی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قرار داد کے مطابق ایوان کے تمام اراکین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقہ کار، آئین اور قانون میں مضمر ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مطالبات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے ان کی تمام غیر جمہوری سرگرمیوں کا فی الفور خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی نے اس سلسلے میں پیر کی شام ایک قرار داد کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا جسے مسلم لیگ (ن ) ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کیا گیا تھا۔

قرار داد میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں دھرنوں اور غیر قانونی مطالبات سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے ملک، آئین اور جمہوری نظام اور عوام کے خلاف گہری سازش قرار دیا گیا۔

قرار داد کے مطابق ایوان کے تمام اراکین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقہ کار، آئین اور قانون میں مضمر ہے۔

قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ایوان کی رائے میں نام نہاد ’آزادی اور انقلاب مارچ‘ کے شرکاء کی طرف سے وزیرِ اعظم کے مستعفی ہونے، اسمبلیوں کی تحلیل اور سول نافرمانی جیسے غیر آئینی مطالبات آئین اور قانون سے متصادم ہیں اوریہ عوام کی رائے کی توہین کے مترادف ہیں۔

قرارداد میں دونوں جماعتوں کی اقدامات کو غیر آئینی، غیر قانونی اور سازش قرار دینے کے علاوہ ان کی مذمت کی گئی تھی اور یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ تمام غیر آئینی اور غیر جمہوری سرگرمیوں کو فی الفور ختم کیا جائے۔

اراکین اسمبلی کے اظہار خیال کے بعد جب اسپیکر میر جان محمد جمالی نے قرار داد رائے شماری کے لیئے پیش کی تو ایوان نے اس کو اتفاق رائے سے منظوری کر لیا۔

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اقدامات کے خلاف اس قرارداد کی حمایت کرنے والوں میں جہاں مسلم لیگ (ق) کے اراکین شامل تھے وہاں مجلس وحد ت المسلمین کے واحد رکن نے بھی اس کی حمایت کی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ق) اور مجلس وحدت المسلمین کی مرکزی قیادت نے نہ صرف پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کی حمایت کی ہے بلکہ دونوں جماعتوں کے بعض رہنماعوامی تحریک کے دھرنے میں بھی نظر آتے ہیں۔

مسلم لیگ (ق) اور مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی قیادت کے فیصلوں کے بر عکس بلوچستان اسمبلی میں دونوں جماعتوں کے اراکین تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے احتجاجی اقدامات کے خلاف ہیں اور وہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں۔

اسی بارے میں