’ارکان پارلیمان کے خلاف کارروائی پارلیمان کی ذمہ داری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان درخواستوں کی سماعت 20 اگست کو ہوگی

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے اور موجودہ صورت حال کے بارے میں وفاق سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ آئین کی شق پانچ کے تحت آئین کی پاسداری ہر پاکستانی پر فرض ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں آرٹیکل چھ یعنی آئین سے بغاوت کی کارروائی ہوسکتی ہے۔

سول نافرمانی کا اعلان، وزیراعظم کو دو دن کی مہلت

خیال رہے کہ اتوار کو عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ تمام پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہ تو ٹیکس ادا کریں اور نہ ہی بجلی گیس اور پانی کا بل ادا کریں۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں کسی بھی ادارے کی جانب سے ممکنہ طور پر ماورائے آئین اقدام اٹھانے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

یہ درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ نے دائر کی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے جو عبوری حکمنامہ جاری کیا تھا اس کے بعد حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کسی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف ہے۔

کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس طرح کا بیان آئین سے غداری کے زمرے میں آتا ہے اس لیے عدالت اس ضمن میں مناسب حکم جاری کرے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس طرح کی درخواست ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آئی۔

درخواست گزار کے مطابق انھوں نے درخواست تو دی ہے لیکن ابھی تک اس پر رجسٹرار آفس کی جانب سے نمبر نہیں لگایا گیا جس پر عدالت نے اس درخواست پر رجسڑڈ نمبر لگانے کی ہدایت کی۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شفقت چوہان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان عوامی نمائندگی ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ عدالت آئین کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ارکان پارلیمان نے بھی حلف اٹھا رکھا ہے اور اگر کوئی قومی اسمبلی کا رکن حلف کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس رکن کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ تمام معاملات عدالتوں پر نہیں چھوڑے جانے چاہییں۔

شفقت چوہان نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ فوج جمہوری حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لے اس لیے عدالت سیکریٹری دفاع کو بھی نوٹس جاری کرے۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاق کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور تمام ادارے وفاق کے ماتحت ہی آتے ہیں۔

عدالت نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق چاروں ہائی کورٹس کی درخواستوں کو یکجا کرنے اور ایک ہی وقت میں اُن کی سماعت کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

ان درخواستوں کی سماعت 20 اگست کو ہوگی۔

اسی بارے میں