’ہم چارٹر پر قائم رہے، عمران نے ذہن تبدیل کرلیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہم تو اپنے چارٹر پر قائم رہے لیکن عمران خان نے اچانک اتوار کو سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا: طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ انھوں نے عمران خان کو حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک شروع کرنے کی دعوت دی تھی تاہم ہر جماعت کا اپنا نظریہ ہوتا ہے اور یہی جمہوریت ہے۔

عوامی تحریک کے سربراہ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان اور ہم الگ الگ احتجاج کر رہے ہیں تو یہ بھی جمہوریت کا حصہ ہے۔

عمران خان اور ان کی جماعت کے مطالبات کے درمیان فرق کے بارے میں انھوں نے کہا کہ فرق تو ہے اور وہ یہ کہ ہم چارٹر آف ڈیمانڈ لے کر چلے تھے جس کا پہلا نکتہ موجودہ حکومت کا مستعفی ہونا ہے۔

عوامی تحریک کے سربراہ کے مطابق عمران خان بھی یہی چارٹر لے کر چلے، تاہم ہم دو مہینے سے یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تو اپنے چارٹر پر قائم رہے لیکن عمران خان نے اچانک اتوار کی رات کو حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے مطابق بعض اوقات اس طرح کی ذہنی تبدیلی فرق پیدا کر دیتی ہے۔

طاہر القادری نے کہا یہ کرپٹ لوگ ہیں، اس پارلیمان میں 75 فیصد لوگ ٹیکس نہیں دیتے، یہ لوگ قرض نادہندگان ہیں اور یہ ان کا حق نہیں ہے کہ وہ پارلیمان کا حصہ بنیں، ٹیکس چوری کرنے والے پارلیمان کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم فوج کی مداخلت نہیں دیکھ رہے ہیں اور نہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں