معاملات کو با مقصد مذاکرات سے حل کیا جائے: فوج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریڈ زون میں واقع عمارتیں ریاست کی علامت ہیں اور ان عمارتوں کی حفاظت فوج کر رہی ہے: فوج

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ موجودہ تعطل میں فریقین کو صبر تحمل اور تدبر سے کام لینا چاہیے اور معاملات کو وسیع تر قومی اور عوامی مفاد کے لیے بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ریڈ زون میں واقع عمارتیں ریاست کی علامت ہیں اور ان عمارتوں کی حفاظت فوج کر رہی ہے۔

پاکستان کی فوج کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج جاری ہے۔ دونوں سیاسی جماعتیں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکن مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہو چکے ہیں۔

عمران خان نے ’آزادی مارچ‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کل شام تک وزیرِ اعظم نواز شریف مستعفی نہیں ہوئے تو پھر وہ وزیرِ اعظم ہاؤس جائیں گے۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تحمل اور برداشت سے کام لے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ حکومت طاقت کا استعمال نہیں کرے گی۔

اس سے پہلے پاکستان عوامی تحریکِ کے سربراہ طاہرالقادری کے حامیوں نے کرین اور تالے توڑنے والے آلات استعمال کر کے ریڈ زون کی طرف جانے والے راستے میں کھڑے کیے گئے کنٹینروں کی قطار ہٹائی اور آگے بڑھے تاہم پولیس نے اس پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

اسی بارے میں