کیا فوج کی مداخلت ختم ہو گئی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئی ایس پی آر کا بیان سیاست دانوں کی ناکامی کا بھی منھ بولتا ثبوت ہے جو اپنی انا اور مفادات سے آگے دیکھنا نہیں چاہتے اور ایک دوسرے کی ضدبازی میں صورتِ حال کو ڈیڈ لاک تک پہنچا چکے ہیں

پاکستان میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری سیاسی ہلچل نے اور کچھ کیا ہے یا نہیں ایک خوش فہمی ضرور دور کر دی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو چکی ہے اور یہ کہ اب سیاست میں فوج کی مداخلت کے راستے بند ہوگئے ہیں۔

موجودہ صورتِ حال میں المیہ یہ ہے کہ یہ سیاست دان ہیں جنھوں نے فوج کو سیاسی امور میں مداخلت کی جگہ دی ہے۔

گذشتہ روز پہلے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیرِاعظم نوازشریف کے درمیان طویل ملاقات ہوئی اور پھر فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں ریڈ زون کی عمارتوں کے تقدس کا خیال رکھنے اور سیاست دانوں کو تحمل، بردباری اور موجودہ صورتِ حال کو مذاکرات سے حل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا فوج کا یہ بیان سیاسی معاملات میں مداخلت اور اس کے دائرہ کار سے باہر نہیں؟

سینئیر صحافی سلمان غنی کا کہنا ہے: ’فوج پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک بہت بڑی حقیقت ہے جسے ہم جھٹلا نہیں سکتے۔ فوج اپنے فیصلوں اور پالیسیوں میں ہمیشہ خود مختار رہی ہے تاہم نواز شریف حکومت کو یہ غلط فہمی ضرور تھی کہ اب ملک کے اندرونی معاملات اور خارجہ پالیسی سب وہی چلائیں گے لیکن اب وہ خاصی حد تک دور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔‘

آئی ایس پی آر کا بیان سیاست دانوں کی ناکامی کا بھی منھ بولتا ثبوت ہے جو اپنی انا اور مفادات سے آگے دیکھنا نہیں چاہتے اور ایک دوسرے کی ضدبازی میں صورتِ حال کو ڈیڈ لاک تک پہنچا چکے ہیں۔

دفاعی تجزیہ نگار اسد منیر کہتے ہیں: ’یہ صرف سیاست دانوں کی ہوس اقتدار ہے جو صورتِ حال کو یہاں تک لے آئی ہے۔ کوئی درمیانی راستہ نکالنا ضروری ہے ورنہ حالات اور بھی خراب ہوجائیں گے۔ فوج کے لیے براہ راست اقتدار پر قابض ہونا ممکن نہیں تاہم قومی سلامتی کے حوالے سے بھی فوج کا کردار ہے اس لیے اب معاملات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اس بحث سے قطع نظر کہ سیاست میں فوج کا کردار ہونا چاہیے یا نہیں فوج کے لیے خود کو ساری صورتِ حال سے لاتعلق رکھنا ممکن نہیں۔‘

ایک طرف دھرنے کے شرکا کے راستے بند کرنے کی وجہ سے دن بھر لوگ پارلیمنٹ کے اندر یرغمال بنے رہے تو دوسری جانب عمران خان کے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہونے کے بیان پر حکومتی ادارے ایک عجیب مخمصے کا شکار دکھائی دیے۔

تاہم آئی ایس پی آر کے بیان کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے تحریکِ انصاف نے وزیراعظم ہاؤس پر ہلہ بولنے کے منصونے کو منسوخ کیا اور ایک سمجھدار سیاست دان کی طرح فوج سے براہ راست تصادم کی پالیسی سے گریز کیا۔

فوج دوٹوک الفاظ میں ریڈ زون کے اندر عمارتوں کے تقدس کی حفاظت کا عندیہ دے چکی ہے۔ اگر عمران خان اور ان کے حامیوں نے کسی بھی عمارت پر قابض ہونے کی کوشش کی تو فوج آرٹیکل 245 کے تحت انھیں طاقت سے روکنے کی مجاز ہوگی۔

کئی تجزیہ نگار تو یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ عمران خان یہ سب کچھ فوج کے ایما پر کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس سارے ’ڈرامے‘ کو ’سکرپٹڈ‘ قرار دے رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ نگار اسد منیر اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے : ’عمران خان ایک ایسے آدمی ہیں جن کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر تصادم کی جانب گئے تو عمران خان یہ سوچ لیں کہ فوج عملی طور پر اس معاملے میں شامل ہوجائے گی۔ اگر وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ فوج آ گئی اور انھیں کوئی حصہ مل جائے گا تو وہ غلط سوچ رہے ہیں کیونکہ فوج ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتی جن کے بارے میں انھیں یقین نہ ہو کہ وہ ان کی ساری باتیں سنے گا اور عمران اس قسم کے آدمی نہیں ہیں جن پر فوج انحصار کرے۔‘

اسی بارے میں