’تیری جمہوریت کی ایسی کی تیسی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منزل پر پہنچتے ہی ہر ایک نے اپنے اپنے مگر منظم انداز میں پارلیمان کے سامنے ڈیرے ڈالنے شروع کر دیے

منگل اور بُدھ کی درمیانی شب پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں کارکن شاہراہِ دستور پر یوں ٹہلتے ہوئے پارلیمان کی عمارت کی جانب بڑھ رہے تھے جیسے وہ اس علاقے میں رات کو چہل قدمی کے لیے نکلے ہوں جسے حکومت کی برداشت کی حد کہا جا رہا تھا۔

مظاہرین کی کرینوں نے راستے میں ڈالے گئے کنٹینر ہٹا دیے تھے اور پاکستانی دارالحکومت کی اہم ترین شاہراہ پر، انقلابی نغموں پر دھمال کے ساتھ پیش قدمی ہو رہی تھی۔

پولیس، رینجرز اور فوج کے اہلکار اسلحہ و حفاظتی سامان اُٹھائے، شاہراہ کے فُٹ پاتھوں پر خاموشی سے صف آراء تھے۔

اُن کے سامنے، عوامی تحریک کے ڈنڈا بردار کارکنوں کی صف تھی جو سکیورٹی اہلکاروں یا سرکاری عمارتوں کی طرف مُنہ کرنے والے ساتھی مظاہرین کو ’سیدھے چلو‘ کے احکامات دے رہے تھے۔

سکیورٹی کی سرکاری مشینری نے جسے مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا، شاید اِس لیے چُپ سادھ لی تھی کہ پارلیمان کی جانب بڑھنے والے، عوامی تحریک کے ہروال دستوں میں شریک بیشتر مظاہرین ڈنڈوں اور دیگر سامان سے مسلح تھے۔

دو بھائی علی چن اور محمد شہزاد واہگہ بارڈر سے آئے تھے اور غلیل اور اُس سے پھینکنے کے لیے بنٹے ساتھ لائے تھے۔

انھوں نے پولیس کی لاٹھیوں کو روکنے کے لیے حفاظتی پیڈ بازو پر پہن رکھے تھے اور بیس بال کے بلے جیسا ڈنڈا بھی اُٹھا رکھا تھا۔

اِن بھائیوں کے بقول ان کے تیسرے بھائی عاصم کی موت، لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں 17 جون کو پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے دوران ہوئی تھی۔

’اُس کے بعد سے ہم ڈنڈا لے کر پھر رہے ہیں۔ ہم نے اسی ڈنڈے سے اپنے شہیدوں کا بدلہ لینا ہے۔‘

Image caption علی چن اور محمد شہزاد واہگہ بارڈر سے آئے تھے اور غلیل اور اُس سے پھینکنے کے لیے بنٹے ساتھ لائے تھے

اِن مظاہرین میں سے کسی نے، ہیلمٹ پہن رکھی تھی تو کسی کے مُنہ پر گیس ماسک تھا لیکن سکیورٹی اہلکاروں کو ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت پڑی نہ مظاہرین کو۔

اپنی منزل پر پہنچتے ہی ہر ایک نے اپنے اپنے مگر منظم انداز میں پارلیمان کے سامنے ڈیرے ڈالنے شروع کر دیے۔ کوئی سڑک پر ہی لیٹ گیا تو کوئی گرین بیلٹ یا گیندے کے پھولوں کی خوبصورت باڑوں میں ڈھیر ہو گیا۔

فیصل آباد کے انیس سالہ طالبعلم محمد تیمور، ڈی چوک کے وسط میں کھڑے ہو کر با آوازِ بلند انقلابی شاعری سے ساتھیوں کو جوش دلانے لگے۔

پہلے تمہید باندھی کہ

’بھائیو! جہاں ہم پہنچ گئے ہیں، یہ جمہوریت، جمہوریت جمہوریت لگے رہتے ہیں۔‘

پھر اِس قطعے کے آخری مصرعے پر مجمعے نے آواز میں آواز ملائی۔

’چھوڑ دے سارے قصے کہانی

لگے آمریت کی بھی یہ نانی

نہ کر بات کوئی ایسی کی ویسی

تیری جمہوریت کی ایسی کی تیسی‘

Image caption تیمور، ڈی چوک کے وسط میں کھڑے ہو کر با آوازِ بلند انقلابی شاعری سے ساتھیوں کو جوش دلانے لگے

محمد تیمور تب خاموش ہوئے جب اصل مقررِ کاررواں، پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد ہوئی اور ڈی چوک فتح کے نعروں سے گونجنے لگا۔

اپنے طویل خطاب میں اُنہوں نے کارکنوں کو ماڈل ٹاؤن کے سانحے کی یاددہانی کرائی۔ وزیرِاعظم میاں نواز شریف اور اُن کے بھائی وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے استعفوں کے مطالبے اور اپنے احتجاج کے دس نکاتی ایجنڈے کو دوہرایا۔ آخر میں اپنے کارکنوں کو پارلیمان کے سامنے بکھر کر سونے کی ہدایت کی۔

جب صبح تین بجے کے قریب، پاکستان تحریکِ انصاف کا آزادی مارچ پارلیمان سے ملحقہ سپریم کورٹ کے سامنے پہنچا تو پاکستان عوامی تحریک کے بیشتر کارکن اپنے قائد کی ہدایت پر عمل درآمد شروع کر چکے تھے۔

چپے چپے میں سوئے ہوئے مرد و خواتین کے باعث تل دھرنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔

نیند میں ہی اسلام آباد کے نئے مگر اہم ترین مقام پر پہلا دھرنا شروع ہو چکا تھا جبکہ دوسرے دھرنے کے لیے آنے والی پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے ڈی چوک بند ہو چکا تھا۔

اسی بارے میں