نظام کی تبدیلی اور پیٹ کے لیے مارچ

Image caption بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے رواں سال مارچ میں قحط سالی نے شدت اختیار کر لی تھی، جس کے دوران سینکڑوں بچے ہلاک ہوگئے تھے

اسلام آباد کے سبزہ زاروں اور مارگلہ کی پہاڑیوں سے سینکڑوں کلومیٹر دور صحرا کے ٹیلوں کے درمیان واقع اقلیتی بھیل برادری کے گاؤں میں ایک گھر کے آنگن میں دو ماہ کی بچی مسلسل رو رہی ہے۔

ماں اس کو خاموش نہیں کر پا رہی، بچی کا مسئلہ دودھ ہے جبکہ ماں کی پریشانی یہ ہے کہ اس کی چھاتی سوکھ چکی ہے۔

یہ مناظر تھر کے ضلعی ہیڈکوارٹر سے 30 کلومیٹر دور گاؤں ماچھیو بھیل کے ہیں۔ شریمتی بائی کی بیٹی کی پیدائش کسی ہپستال میں نہیں بلکہ گھر پر ہوئی۔

یہی وہ دن تھے جب صوبائی حکومت یہ دعوے کرتی تھی کہ ہپستالوں میں سٹاف اور دوائیں موجود ہیں۔ تاہم شریتی بائی کہتی ہیں کہ ہپستال میں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں تھی اس لیے وہاں کیوں جائیں۔

دو چھوٹے بچوں کی ماں شریمتی بائی جسامت میں کافی کمزور نظر آتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بیمار رہتی ہیں اور دودھ اترتا نہیں۔ وہ ڈاکٹر پاس بھی گئی تھیں۔ ڈاکٹر نے کچھ دوائیں دیں اور کہا کہ خوراک کھاؤ۔ اب وہ خوراک کہاں سے لائیں؟

بھیل کمیونٹی شری کرشن کی فوج تصور کی جاتی ہے۔ یہ کمیونٹی ان کا جنم دن گانا بجا کر مناتی ہے۔ دو روز پہلے بھی ماچھیو بھیل میں شری کرشن کے جنم دن کا تہوار کا تھا لیکن بھگتی کے گیتوں میں جدائی کا بھی عنصر شامل تھا کیونکہ بھیل کمیونٹی کے لوگ اسی روز کے منتظر تھے اور اب ان میں سے اکثر نقل مکانی کر کے بیراجی علاقوں کی طرف چلے جائیں گے۔

صحرائے تھر میں گذشتہ دو سالوں کی طرح اس سال بھی بارش نہیں ہوئی، جبکہ محکمۂ موسمیات پہلے ہی 70 فیصد بارشیں کم ہونے کی پیش گوئی کر چکا ہے۔

دیوجی بھیل نامی ایک کسان نے بتایا کہ اب اگر بارشیں ہو بھی گئیں تو فصل نہیں ہو سکے گی کیونکہ اس کا موسم بیت چکا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ جانوروں کے لیے گھاس ہو جائے گی مگر اس کا بھی آسرا نہیں رہا۔ وہ اب بیراجی علاقوں میں جا کر مزدوری تلاش کریں گے۔

تھر میں عام طور پر باجرے، موٹھ، مونگ، تل اور گوار کی کاشت کی جاتی ہے۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے رواں سال مارچ میں قحط سالی نے شدت اختیار کر لی تھی، جس کے دوران سینکڑوں بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سال انھیں امید تھی کہ بارشیں ان کی روٹھی قسمت کو مناکر لائیں گی، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

Image caption ’ڈاکٹر نے کہا کہ خوراک کھاؤ، اب وہ خوراک کہاں سے لائیں؟‘

سندھ حکومت نے ضلعی انتظامیہ کی سفارش کے باوجود تاحال تھر کو آفت زدہ قرار نہیں دیا۔ آفت زدہ قرار دینے کی صورت میں یہاں رعایتی قیمت پر گندم اور چارے کی فراہم کے علاوہ محصول معاف کیے جائیں گے۔

حکومت نے مارچ اور اپریل میں دو سو کلوگرام گندم فی خاندان اور چارا فراہم کیا تھا تاہم یہ بڑے عرصے تک کارگر ثابت نہیں ہوا۔

غیر سرکاری ادارے سکوپ کے کارکن بھارو مل بھیل کے مطابق 2012 اور 13 کے بعد یہ تیسرا قحط ہے۔ اس عرصے میں لوگوں کے جو اثاثے تھے وہ ختم ہوچکے ہیں اور اب ان کی آمدنی کا کوئی وسیلہ نہیں۔

’بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے فصل نہیں ہوئیں، اس کے بعد لوگوں کا دارومدار مال مویشیوں پر تھا جن میں سے کچھ بیماری کا شکار ہوگئے اور کچھ لوگوں نے گزارے کے لیے بیچ دیے۔ اس صورتِ حال میں آنے والا ایک سال ان کے لیے انتہائی کٹھن ہوگا۔

مسلسل قحط سالی کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ صحرا کے یہ لوگ کئی صدیوں سے موسم اور حالات کی سنگینی کا مقابلہ کرتے آئے ہیں۔

اویئر نامی غیر سرکاری تنظیم کے کارکن علی اکبر راہموں کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق کے مطابق رواں سال سات ماہ میں 33 افراد نے خودکشیاں کی ہیں جبکہ دو ہزار تیرہ میں یہ تعداد 29 اور دو ہزار میں 35 تھی۔ بقول ان کے یہ اداروں کی بے حسی اور لوگوں کی بے بسی کا نتیجہ ہیں۔

سندھ حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی نے ڈرؤٹ پالیسی پالسی مرتب کرکے حکومت کے حوالے کردی ہے، جس میں قحط سالی کی صورت میں اقدامات تجویز کیے ہیں لیکن یہ پالیسی حتمی طور پر منظور نہیں ہوئی۔

ماچھیو بھیل کے رہائشی ڈیوجی سے میں نے پوچھا کہ کیا اسلام آباد میں نظام کی تبدیلی کے لیے ہونے والے مارچ سے آگاہ ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور کراچی میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے انھیں کچھ پتہ نہیں، لیکن قحط سالی کی وجہ سے ان کی نسلیں صدیوں سے پیٹ پالنے کے لیے مارچ کرتی آرہی ہیں، اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔

اسی بارے میں