خیبر ایجنسی: دو نیٹو آئل ٹینکروں پر حملہ، ڈرائیور ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیٹو ٹینکروں پر تین دنوں میں دو حملے ہو چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم افراد نے افغانستان میں نیٹو افواج کو تیل سپلائی کرنے والے دو آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی ہے جس میں ایک ڈرائیور ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعرات کی صبح جمرود کے قریب سور قمر کے مقام پر پیش آیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے دو ٹینکروں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے ٹینکروں کو آگ لگ گئی۔

اہلکار نے بتایا کہ مقامی پولیس خاصہ دار فورس نے جوابی کارروائی کی لیکن حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اس حملے میں ٹینکروں کا ایک ڈرائیور ہلاک اور کنڈکٹر سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ٹینکروں کو آگ لگنے سے ایک لاش ٹینکر کے اندر جلی ہوئی پڑی ملی ہے۔

سور قمر کا علاقہ پشاور سے تقریباً دس کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس مقام پر اس سے پہلے بھی متعدد واقعات میں نیٹو کے کنٹینروں اور ٹینکروں پر حملے ہو چکے ہیں۔

Image caption سکیورٹی فورسز نے دو روز پہلے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے پانچ ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی تھی

دو روز پہلے بھی اسی علاقے میں افغانستان سے واپس آنے والے خالی ٹینکر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی جس میں ڈرائیور اور کنڈکٹر دونوں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں بھی حملہ آور گرفتار نہیں ہو سکے۔

نیٹو ٹینکروں پر تین دنوں میں دو حملے ہو چکے ہیں۔ یہ واقعات خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد شروع ہوئے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے دو روز پہلے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے پانچ ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی تھی۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں ٹوپی کے مقام پر کھیتوں سے ایک خاتون اور ایک مرد کی بوری میں بند لاشیں ملی ہیں۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لاشیں 12 سے 15 روز پرانی ہیں اور بری طرح مسخ ہو چکی ہیں۔ پولیس کے مطابق جمعرات کی صبح انھیں اطلاع ملی کہ دو بوری بند لاشیں کھیتوں میں پڑی ہیں۔ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر دیا گیا ہے لیکن رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی۔

پولیس کے مطابق مرد کی شناخت شمس القمر کے نام سے ہوئی ہے اور پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر کا بتایا گیا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے قتل کی کیا وجہ تھی اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے گذشتہ روز صوابی کے علاقے سے ہی ایک نوجوان کی لاش بھی قریبی کھیتوں سے ملی تھی۔ پولیس کے مطابق یاسر نامی نوجوان 18 تاریخ کو دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد گھر سے باہر گیا اور واپس نہیں آیا۔ گذشتہ روز اس کی لاش ملی ہے جس پر پولیس کے مطابق گولی کے نشان ہیں۔

اسی بارے میں