عمران خان، آصف زرداری اور نواز شریف کے سیاسی داؤ پیچ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عمران خان نے اپنے جلسوں میں نئے انداز متعارف کرائے

پاکستان میں ان دنوں سیاسی سرگرمیاں اپنی عروج پر ہیں۔ ذرائع ابلاغ، خاص طور پر ٹی وی کی سکرین پر دھرنے، احتجاج اور لانگ مارچ چھائے ہوئے ہیں۔

سیاسی قائدین نت نئے سیاسی داؤ پیچ استعمال کر کے اعصاب کی اس جنگ میں ایک دوسرے کو مات دینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ حالیہ چند سالوں کی سیاسی سر گرمیوں میں چند ایک ایسے سیاستدان سامنے ائے ہیں جنھوں نے روایتی سیاست کو چھوڑ کر نئے رجحان متارف کرائے ہیں جبکہ بیشتر سیاستدان اب بھی پرانے اور روایتی انداز کی سیاست کر رہے ہیں۔

سیاست کے اس میدان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ سابق صدر آصف زراداری اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جو نئے انداز اور سیاسی روایتیں متعارف کرائی ہیں وہ سوچ اور فکر دیگر کسی سیاستدان میں یا کسی سیاسی جماعت میں نظر نہیں آتی۔

اگر آصف علی زراری کے پانچ سالہ دورِ اقتدار کا جائزہ ہی لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے انتقامی سیاست کو خیر بار کہہ کر مصالحت اور در گزر کی سیاست کو اپنایا۔ آصف علی زرداری نے اپنے دورِ اقتدار میں تمام مخالف جماعتوں کو اپنے ساتھ ملایا ان میں پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم اور متحدہ قومی موومنٹ شامل ہیں۔

قائد اعظم لیگ کو پیپلز پارٹی نے قاتل لیگ کہا اور پرویز الٰہی پر الزامات بھی لگائے گئے لیکن جب ان سے ہاتھ ملایا تو انھیں ڈپٹی پرائم منسٹر بنادیا تھا۔ ایم کیو ایم سندھ کی سطح پر پیپلز پارٹی کی سخت مخالف جماعت رہی لیکن ان سے ہاتھ ملایا تو ان کے ساتھ ایسا نباہ کیا کہ الطاف حسین بار بار روٹھ جاتے تو زرداری بار بار انھیں مناتے اور ان کے مطالبات تسلیم کرتے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی جمعیت علماء اسلام (ف) ان کی حمایتی رہیں اور یہاں تک کہ پاکستان مسلم لیگ نواز سے بھی ان کے تعلقات بہتر رہے۔

چوہدری شجاعت حسین اور الطاف حسین زرداری کے لیے اس برے وقت میں ساتھ رہے جب علامہ طاہر القادری نے پیپلز پارٹی کے دور میں اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا ۔ شجاعت حسین ان مذاکرات میں پیش پیش تھے اور سیاست کے ذریعے طاہر القادری کا دھرنا ختم کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

اس کے مقابلے میں اگر ہم نواز شریف کی سیاست دیکھیں تو وہ اب بھی پرانی روایتی سیاست سے چمٹے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر انتقام کی سیاست ان کے جسم میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی اور شیخ رشید کو انھوں نے اپنی سیاست کی وجہ سے دشمن بنایا جو ان دنوں طاہر القادری اور عمران خان کے کیمپ میں موجود ہیں۔

نواز شریف کو جب صدر منتخب کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے صدر ممنون حسین کو چنا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ممنون حسین کی جگہ کوئی متحرک صدر چن لیے جاتے تو نواز شریف کو سیاسی حوالے سے فائدہ ہوتا۔

نواز شریف کے اندر شاید خوف اور انتقام کی سیاست انھیں آج اس جگہ پر لے آئی ہے کہ ان کے خلاف 12 مہینوں میں ہی لانگ مارچ اور دھرنے شروع ہو گئے ہیں۔ اس خوف کی وجہ سے شاید انھوں نے اپنی کابینہ میں بیشتر وزراء اپنے خاندان سے لیے ہیں جبکہ بھتیجے اور بیٹی کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کو بھی اہم عہدے نوازے ہیں۔ ان کی یہی پالیسی ان کے زوال کا سبب بن رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نواز شریف کے اندر شاید خوف اور انتقام کی سیاست انھیں آج اس جگہ پر لے آئی ہے

اب اگر ہم عمران خان کی سیاست کو دیکھیں تو ان کی سیاست آصف زرداری سے مختلف ہے لیکن انھوں نے اپنے حوالے سےنئی جہتیں او نئے انداز متعارف کرائے ہیں۔ انھیں اگر ایک دبنگ رہنما کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ عمران خان نوجوانوں کو سیاست میں لائے اور اسی بنیاد پر آج ان کا ووٹ بینک شاید دیگر جماعتوں سے بڑھ گیا ہے ۔

عمران خان نے اپنے جلسوں میں نئے انداز متعارف کرائے موسیقی اور لوگوں کے جوش کو اجاگر کرنے کے لیے انھوں نے جذبے اور جنوں کی سیاست کو پروان چڑھایا۔ یہی پالیسی عمران خان نے کرکٹ کے میدان میں بھی دکھائی اور ان کی جارحانہ قیادت نے انھیں بڑی کامیابیاں دیں۔

زرداری کے مقابلے میں عمران خان نے جارحانہ لالیسی اپنائی۔ آج وہ اکیلے تمام سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انھیں اپنے زور بازو پر یقین ہے اور یہی یقین کی کیفیت انھوں نے اپنے کارکنوں کو بھی دی ہے ۔ وہ ہر پالیسی کامیابی کے لیے اناتے ہیں جس وجہ سے ان کے مخالف بیک فٹ پر چلے جاتے ہیں اور دفاعی پالیسیاں اپنانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یہی ہے کہ کل تک نواز شریف کے بیشتر وزراء جو سخت بیان دے رہے تھے آج وہ نرم پڑ گئے ہیں۔

اسی بارے میں