احتجاجی دھرنوں کے خلاف وکلا کی ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وکلا تنظیموں نے جمعرات کو سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کونسل کی اپیل پر وکلا نے ملک کی غیر یقینی سیاسی صورتِ حال کے خلاف جمعرات کو ہڑتال کی۔

وکلا نے کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کی ہائی کورٹوں اور ماتحت عدالتوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور جنرل باڈی کے اجلاسوں میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر زیڈ اے کے جتوئی کا کہنا ہے احتجاج کرنا اور دھرنا دینا ہر کسی کا جمہوری حق ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس طرح سے احتجاج کیا جائے جو دہشت گردی کے زمرے میں آئے۔

انھوں نے عمران خان اور طاہر القادری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے پوری قوم کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے، صبح کو لگتا ہے شام کو مارش لا آ رہا ہے اور شام کو محسوس ہوتا ہے کہ صبح مارشل لا نافذ ہو جائےگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اور طاہر القادری کبھی کہتے ہیں کہ پارلیمان کا گھیراؤ کریں گے، اور کبھی کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو نکلنے نہیں دیں گے۔ یہ کون سا طریقہ ہے؟

زیڈ اے جتوئی کے مطابق انھیں قانون کی حکمرانی میں اعتماد رکھنا چاہیے اور جو بھی کرنا ہے قانون اور آئین کے دائرے میں کریں۔

’جب تک پارلیمان میں نہیں بیٹھیں گے، ترمیم نہیں لائیں گے، یہ کیسے ممکن ہے کہ پورا الیکشن کمیشن تبدیل ہو جائے کیونکہ موجودہ الیکشن کمیشن بھی آئین کے تحت بنا ہوا ہے۔‘

کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین احمد کہتے ہیں: ’ملک میں جو سیاسی صورت حال ہے اس کا فائدہ کوئی تیسری قوت اٹھائے اسی لیے انھوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے کیونکہ اگر کسی بھی صورت میں جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے تو وکلا اسے قبول نہیں کریں گے۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس ریٹائرڈ خلیل رمدے کو بھی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کا چوہدری افتخار سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ نہ بار ایسوسی ایشن میں ہیں اور نہ ہی کسی جماعت میں۔ وکلا کی جو تحریک تھی وہ افتخار محمد چوہدری کے پیچھے نہیں بلکہ ایک اصول پر مبنی تھی۔

انھوں نے کہا: ’افتخار چوہدری نے عمران خان کو ہتکِ عزت کا جو نوٹس بھیجا ہے اس کا وکلا کے اس احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

ادھر لاہور میں بھی وکلا تنظیموں نے جمعرات کو سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

ہائی کورٹ بار کے زیرِ انتظام کنونشن کے دوران وکلا کے دو گروہوں میں اس وقت گرماگرمی ہوگئی جب ایک وکیل نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور طاہر القادری کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے حامی اور مخالف وکلا مارچ اور دھرنے کے حق اور مخالفت میں نعرے بازی کرتے رہے جس سے کنونشن کی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔

کنونشن کے اختتام پر جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس کے تحت حکومت مظاہرین سے مذاکرات کا آئینی مطالبات تسلیم کرے تاہم کسی کو بھی احتجاج کے نام پر ملک پر قبضے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وکلا کا کہنا تھا کسی غیر آئینی اقدام کی صورت میں کسی جج سے پی سی او کے تحت حلف لیا گیا تو اسے عدالت میں بیٹھنے نہیں دیا جائے گا۔

اسی بارے میں