شمالی وزیرستان:’دو لاکھ تاحال محصور، تعلیمی سرگرمیاں مفلوج‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تعلیمی سال میں یہ وقت انتہائی اہم بھی ہے۔ موسم گرما کی چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون سے شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے بعد سب قبائلیوں نے نقل مکانی نہیں کی ہے۔

مقامی آبادی کے مطابق رزمک، دوسلی اور گڑی یوم جیسے علاقوں میں اب بھی تقریباً دو لاکھ لوگ محصور ہیں۔

ان افراد میں بڑی تعداد میں طلبہ بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کا تعلیمی سال ضائع ہو رہا ہے اور اسی سلسلے میں تقریباً دو سو طلبہ نے حکومت کے خلاف رزمک بازار میں احتجاج بھی کیا ہے۔

’ہزاروں افراد کے محصور ہونے سے لاعلم ہیں‘

پانچ سو سکول تباہ، چھ ہزار اساتذہ مجبور

ان طلبہ کا مطالبہ ہے کہ انھیں پاکستان کے دیگر علاقوں میں اپنی درس گاہوں تک جانے دیا جائے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں انھیں خدشہ ہے کہ ان کے اہم تعلیمی وقت اور وسائل ضائع ہو جائیں گے۔

رزمک سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے ایک طالب علم عرفان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انھیں پشاور جانے نہیں دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کا تعلیمی سال ضائع ہو رہا ہے۔‘

سول انجینیئرنگ کے طالب علم کا کہنا تھا کہ ان کے دو پرچے پہلے ہی رہ گئے ہیں تاہم راستہ ابھی بھی نہیں مل رہا ہے۔’ مقامی انتظامیہ/ادارے سے بات کی ہے وہ کبھی کہتے ہیں کہ آج چھوڑیں گے کبھی کل۔‘

رزمک کو شمالی وزیرستان کا تعلیمی مرکز اگر کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ یہاں کی بڑی درس گاہ کیڈٹ کالج پہلے ہی یہاں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے خیبر پختوانخوا کے شہر نوشہرہ منتقل کر دی گئی ہے۔

اس کالج کے رزمک میں قیام کا بنیادی مقصد مقامی آبادی کو بہتر تعلیمی سہولت فراہم کرنا تھا لیکن اسے یہاں سے منتقل کر دیا گیا ہے۔

رزمک میں تقریباً 25 پرائمری سکول بھی طویل عرصے سے بند ہیں۔ سرکاری کیمپ کے اندر بھی ایف سی سکول بند ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر دو روز بعد تین تین دن کا کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔

بنوں یونیورسٹی میں ایم اے کے طالب علم زین الدین نے بی بی سی سے ٹیلفیون پر بات کرتے ہوئے شکایت کی کہ حکومت کا رویہ ان سے درست نہیں۔

’ہمارا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کے ذہن غلط جانب مائل ہو رہی ہیں۔ تمام دن وہ یا تو کھیل کھیلتے رہتے ہیں، موٹر سائیکلیں چلاتے ہیں یا دکانوں پر بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کی سوسائٹی خراب ہو رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی علاقوں کے مطابق علاقے میں تعلیمی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں

محصور ہونے کی وجہ سے محض تعلیمی سرگرمیاں ہی متاثر نہیں ہو رہی ہیں بلکہ کاروبار اور صحت کے مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔

عرفان نے بتایا کہ چھوٹے ٹھیلے اور دکانوں کا کاروبار پہلے ہی ٹھپ ہے کیونکہ فروٹ اور کھانے پینے کے دیگر اشیاء کی ترسیل بند ہے۔ ’ابھی 40 ٹرک سامان آیا ہے اور باہر کھڑا ہے اور لوگ قطار میں کھڑے ہو کر گھی اور آٹا لے رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ایندھن کی کمی کی وجہ سے لوگ اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے سامان دور علاقے تک لے جاتے ہیں لیکن اس کا نرخ بھی بڑھ گیا ہے۔ صحت کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کو علاقے سے باہر بہتری ہسپتال منتقل کرنے کا اگر کہا جاتا ہے تو اسے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں ایدک کے علاقے کے قبائل نے بھی علاقہ چھوڑنے سے انکار کیا تھا لیکن اب بتایا جاتا ہے کہ انھیں عسکری کارروائی کے پیش نظر ایجنسی کے اندر ہی دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا۔

تعلیمی سال میں یہ وقت انتہائی اہم بھی ہے۔ موسم گرما کی چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں اور کئی اداروں میں داخلوں کا بھی یہی وقت ہے۔

سامان کی کمی کا حل نکلے نہ نکلے وہاں کے طالب علم تعلیمی وقت نہیں کھونا چاہتے۔

عرفان اللہ کہتے ہیں کہ ’حکومت نوجوانوں کو ہتھیار پھینک کر قلم اٹھانے کا کہتی ہے لیکن اس بابت مدد نہیں کر رہی۔‘

قبائلی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے نےاس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقوں رزمک سب ڈویژن اور عیدک میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں یا انھیں خوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔

پشاور میں ایف ڈی ایم کے ترجمان محمد حسیب خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ یا کسی دوسرے ادارے کی طرف سے سرکاری طور پر انھیں ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ جس سے معلوم ہوسکے کہ علاقے میں مقامی باشندے مشکلات کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں