بلوچستان: ایف سی کی کارروائی،’ 16 عسکریت پسند ہلاک‘

Image caption کالعدم تنظیم بی ایل ایف نے ضلع آواران میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملوں اور انھیں نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ میں فرنٹیئر کور نے 16 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان کے مطابق یہ جھڑپ ضلع کے علاقے بل نگورمیں ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ اس علاقے میں مسلح افراد نے شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کا منصوبہ بنایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے بروقت اطلاع ملنے پر ایف سی کے اہلکار اس علاقے میں شہریوں کی مدد کے لیے پہنچ گئے۔

ترجمان کے مطابق ایف سی نے ان کے خلاف بروقت کاروائی کی جس میں دس زائد سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس واقعے کے حوالے سے میڈیا کو جو بیان جاری کیا ہے اس کے مطابق یہاں جھڑپ میں تنظیم کا ایک کارکن ہلاک ہوا۔

بیان میں تنظیم کے ترجمان نے یہاں حکومت کے حامی افراد اور ان کی مدد کے لیے آنے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ میں حکومت کے حامی افراد کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کالعدم تنظیم بی ایل ایف نے ضلع آواران میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملوں اور انھیں نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ کالعدم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے ڈیرہ بگٹی میں پیر کوہ سمیت دو مقامات پر سکیورٹی فورسز پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع نے آواران اور ڈیرہ بگٹی میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات کی تصدیق نہیں کی۔

بلوچستان کے بلوچ آبادی علاقوں کو شورش زدہ سمجھا جاتا ہے جہاں کلعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

جون کے اوائل میں بھی سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان اور سندھ کی سرحدی پٹی پر کارروائی میں کم از کم چھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور بلوچستان کے مطابق اس کارروائی کے دوران ان کے تین اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے۔

عسکری حکام کے مطابق اس کارروائی میں فرنٹیئر کور بلوچستان اور سندھ رینجرز نے مشترکہ طور پر کی اور اس میں کم از کم چھ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی نے سندھ رینجرز سے جھڑپ میں اپنے ایک رکن کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

اسی بارے میں