پاکستان بھارت تعلقات پھر کھٹائی میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں نئی حکومت کے برسراقتدار آتے ہی دونوں جانب سے وزرائے اعظم نے جس خیرسگالی کا اظہار کیا تھا اس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب دنوں ملک الزام تراشیوں سے نکل کر تعلقات کو بامقصد طریقے سے آگے بڑھانے کی کوششیں کریں گے

پاکستانی قوم ان دنوں سارا وقت اسلام آباد میں جاری دھرنوں کی لمحہ بہ لمحہ کوریج کو ایسے دیکھ رہی ہے جیسے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ ہو۔ اس دوران کسی کو پلک جھپکنے تک کا ہوش نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے بارے میں حالیہ چند روز کے دوران ہونے والی پیش رفت پر نہ تو کسی کی نظر ہے اور نہ ہی کسی کو یہ فرصت کہ اس کے اسباب اور نتائج کی نزاکت کو سمجھ سکے۔

تقریباً دو برس بعد پاک بھارت مذاکرات کے باضابطہ آغاز کے لیے دونوں ملکوں کی خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے۔

یہ ملاقات 26 اگست کو اسلام آباد میں ہونا تھی جسے بھارت نے نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کے بعد منسوخ کر دیا۔

پاکستانی حکمران ہوں یا پھر سفیر کشمیری رہنماؤں سے ملاقاتیں سالہا سال سے ہوتی رہی ہیں۔ بھارتی حکومت اور دفتر خارجہ کے لیے یہ کوئی نیا واقعہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود اسے بنیاد بنا کر اس ملاقات کو منسوخ کرنے کا مقصد کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محد سعد نے جواب دیا کہ ’اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے اندر جاری سیاسی بحران کے باعث بہت سے معالات پر حکومت کی گرفت کمزور ہو چکی ہے۔ اور بھارت کو یہ سمجھ ہے کہ اس وقت نواز شریف اس پوزیشن میں نہیں کہ کوئی فیصلہ کن یا نتیجہ خیز بات چیت کر سکیں۔ اس لیے وہ انتظار کر رہے ہیں کہ پاکستان میں استحکام ہو اور دیکھ رہے ہیں کہ نوازشریف کی حکومت کا کیا بنتا ہے۔ یہ قائم بھی رہتی ہے یا نہیں۔‘

لیکن معاملہ صرف خارجہ سیکیریٹریوں کی ملاقات کا نہیں۔ گذشہ چند ماہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اب تک سرحدوں پر جنگ بندی کی 60 کے قریب خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں۔ کشمیر اور سیالکوٹ کی سرحد پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ رات رات بھر جاری رہتا ہے، جس سے دونوں جانب کئی شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کرنے کا الزام بھی عائد کرتے رہتے ہیں۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد سعد کہتے ہیں: ’اس وقت بھارت جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے عام ریاست کی طرح انڈین یونین میں ضم کرنا چاہتا ہے۔ بی جے پی نے اپنے منشور میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی شق ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن پاکستان ایسا نہیں ہونے دینا چاہتا۔ خصوصی حیثیت ختم ہونے سے پاکستان کا کشمیر کیس اور کمزور ہو جائے گا۔ اس لیے وہ کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنے کی ہرممکن کوششیں کرے گا۔‘

اگر اس مفروضے کو تسلیم کر لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

ایک جانب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے چند روز پہلے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کے موقعے پر پاکستان پر مقامی شدت پسندوں کی پشت پناہی اور در پردہ جنگ کا الزام لگایا تھا۔

دوسری جانب بھارتی فوج کے نئے سربراہ دلبیر سنگھ سوہاگ نے بھی اپنا عہدہ سنبھالتے ہی پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کسی بھی گڑبڑ کا بھرپور اور فوری جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔

عام دنوں میں تو پاکستان اور بھارت کے درمیان اس طرح کے بیانات معمول کے مطابق ہی سمجھے جاتے ہیں، لیکن مودی حکومت کی آمد پر خیرسگالی کے اظہار سے امید پیدا ہوئی تھی کہ اب دنوں ملک الزام تراشیوں سے نکل کر تعلقات کو بامقصد طریقے سے آگے بڑھانے کی کوششیں کریں گے۔

نوازشریف کا خلوص تو ابھی بھی موجود ہے تو پھر آخر دوبارہ سے تعلقات میں کھنچاؤ کی وجہ کیا ہوئی۔ ماہرِ سیاسیات ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ ’جب نوازشریف نے حکومت بنائی تھی تو تاثر یہ تھا کہ ان کا رویہ اور پالیسیاں فوج سے فاصلہ رکھنے کی ہوں گی۔ لیکن تیرہ چودہ ماہ میں حالات ایسے ہوئے کہ انھیں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ پاکستان میں معاملات اور حکومت وہ اکیلے نہیں چلا سکتے، انھیں فوج کا عمل دخل ماننا پڑا ہے۔‘

بھارتی حکومت کو جہاں نواز شریف کی حکومت کی کمزوری کا احساس ہے، وہیں ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ مودی سرکار بھی جموں کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کرنے کے لیے آئینی ترامیم سے پہلے پاکستان سے تعلقات کو منجمند رکھنا چاہتی ہے۔

تاہم سیکرٹری خارجہ ملاقات کی منسوخی کے بعد آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی متوقع ملاقات بھی کھٹائی میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ اس وقت دونوں جانب امن عمل کی مخالف لابیاں حاوی ہو چکی ہیں۔

اسی بارے میں