’تحریکِ انصاف کی ضد پر وزیرِ اعظم کو نہیں ہٹا سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مذاکرات کے خاتمے کے بعد دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’نواز شریف کی حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔‘

حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور وزیراعظم کے استعفے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگیا ہے۔

سنیچر کی شب اسلام آباد میں مذاکرات کے اختتام پر پہلے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی نے اور پھر وفاقی وزیر احسن اقبال اور گورنر پنجاب محمد سرور نے صحافیوں سے گفتگو کی۔

تحریکِ انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’حکومت نے تجویز دی کہ ایک جوڈیشل کمیشن بنا دیا جائے جو سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل جو اس سارے معاملے کی چھان بین کرے اور ایک نتیجے پر پہنچے کے انتخابات شفاف تھے یا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جوڈیشل کمیشن کی تجویز قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ ٹھیک ہے جوڈیشل کمیشن وجود میں آ جائے مگر اس کے لیے ہماری کچھ شرائط ہیں۔‘

شاہ محمود قریشی نے شرائط بتاتے ہوئے کہا کہ:

  1. ماحول کو کسی قسم کے کے اثر سے پاک رکھنے کے لیے وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔
  2. نادرا، ایف آئی اے کے نئے سربراہ مقرر کیے جائیں اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔
  3. جوڈیشل کمیشن اپناکام 30 دن میں مکمل کرے۔

شام محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’جوڈیشل کمیشن روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کرے اور 30 روز کے اندر رپورٹ پیش کرے۔ اس دوران ماحول کو کسی قسم کے اثر سے پاک رکھنے کے لیے وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

وزیراعظم کے استعفے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’صرف تیس دن کی بات ہے وزیراعظم بری الذمہ ہوتے ہیں اور جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کہتی ہے کہ انتخابات شفاف تھے تو وہ اپنا اقتدار جاری رکھتے ہیں، حکومت ان کی رہتی ہے، اکثریت ان کی ہے، اقتدار ان کا رہتا ہے، ان کی جماعت اکثریت میں ہے، ان کا ہی نامزذ کردہ وزیراعظم حکومت کرے گا اور وہ جس کو چاہیں گے بنا دیں گے۔ اور جب وہ صاف ہو جاتے تو واپس آجاتے ہیں ایک مہینے کے اندر۔‘

شاہ محمود قریشی نے انتخابات میں دھاندلی ثابت ہونے پر کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ثابت ہو ’تو حکومت جاتی ہے اور تازہ انتخابات کا اعلان کیا جاتا ہے، نئے تشکیل کردہ الیکشن کمیشن کے تحت اور ایک نگران حکومت جس پر تمام سیاسی جماعتیں اتفاق کریں جو واقعتاً غیر جانبدار ہو۔‘

اس کے بعد گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے ہماری پسند کا ہو ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ انھوں نے کہا کہ نادرا کا چیئرمین ہماری مرضی کا ہو گا، ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن ہماری مرضی کا لگے، ہم نے کہا ٹھیک ہے۔‘

مذاکرات میں ڈیڈ لاک پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ ’وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے اور اس لیے مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔‘

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف کی کمیٹی مائنس ون فارمولے کے وکیل بن کر آئےتھے اور ان کی ضد پر وزیراعظم کو ہٹا نہیں سکتے‘

احسن اقبال نے کہا کہ ’تحریک انصاف کہتی ہے کہ صرف نوازشریف کو ہٹادو، کابینہ وہی رہے۔ اگرجوڈیشل کمیشن منظم دھاندلی کا بتا دے تو وزیراعظم اور کابینہ کا بھی برقرار رہنے کا جواز نہیں۔‘

یاد رہے کہ آج حکومت کی جانب سے مذاکرات میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے شرکت کی جبکہ تحریکِ انصاف کی نمائندگی شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، ڈاکٹر عارف علوی اور جہانگیر ترین سمیت رہنماؤں نے کی۔

اسی بارے میں