اس سے زیادہ لچک کی گنجائش نہیں: محمود قریشی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہمارا موقف ہے کہ اگر مارشل لا لگا تو ہم سخت مخالفت کریں گے: جہانگیر ترین

تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات میں تین نکات مان گئی ہے۔ ’ہم نے نگراں حکومت اور پارلیمنٹ اور قومی اسمبلیوں کو فارغ کرنے پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ یہ مطالبات جمہوریت اور اس کے تسلسل کے خاطر خود واپس لے لیے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر بھی پاکستان تحریکِ انصاف نے لچک دکھائی ہے: ’ہم نے ان سے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا کنٹرول نادرا، الیکشن کمیشن اور آیف آئی اے کے پاس ہو تاکہ حکومتِ پنجاب اور حکومتِ پاکستان کا ان اداروں پر کم سے کم اثر رہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اتنی باتوں پر مصالحت کا مظاہرہ کیا ہے بس ’ایک چھوٹی سی بات ہے کہ نواز شریف صاحب کو ابھی استعفیٰ دینا پڑے گا تاکہ انتخابات میں دھاندلی کی تفتیش کے عمل پر حاوی نہ ہو سکیں۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ اس معاملے میں فوج کا ہاتھ ہے، تو انھوں نے واضح کیا کہ ’فوج اتنی عوام جمع نہیں کر سکتی، یہ ایک عوامی تحریک ہے۔ اور ہمارا موقف ہے کہ اگر مارشل لا لگا تو ہم سخت مخالفت کریں گے۔‘

تحریکِ انصاف کے رہنما نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ عمران خان نے سمندر پار پاکستانیوں کو سول نافرمانی کے تحت ہنڈی نظام کے ذریعے اپنے پیسے بھیجنے کی ہدایت کی تھی، عمران خان نے فوراً واپس لے لیا ہے:

’اس نظام پر تو بین الاقوامی پابندی ہے اور خان صاحب نے اپنی غلطی مان لی ہے۔‘

اس سے زیادہ لچک کی گنجائش نہیں

اس سے قبل تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت حکومت سے مذاکرات نہیں ہو رہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں انتخابی اصلاحات اور انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے تشکیل سے اتفاق کیا ہے لیکن ان کی جماعت کے پاس اس سے زیادہ لچک کی گنجائش نہیں۔

اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ ’جو لچک دکھانی تھی وہ دکھا دی ہے ، پی ٹی آئی مثبت سوچ لے کر آگے بڑھی ہے، اگر حکومت 30 دن کے لیے وزیراعظم نواز شریف کی علیحدگی برداشت نہیں کر سکتی تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلئے کا حل نہیں چاہتے۔‘

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے نہ تو مائنس ون فارمولا دیا اور نہ ہی وہ اس کی قائل ہے۔ ہم نے درمیانی راستہ دیا تھا کہ اگر فیصلہ ان( وزیراعظم) کے حق میں آتا ہے تو 30 دن بعد وہ وزارت عظمیٰ پر پھر براجمان ہو جاتے ہیں تو مائنس ون کا اس میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

’عمران خان نے بھی اپنے رویے میں لچک پیدا کی ہے۔ اس سے زیادہ مناسب بات نہیں ہو سکتی تھی اور اگر حکومت اپنے ایلچیوں کے ذریعے ان سے مزید لچک کی توقع کرتی ہے تو پی ٹی آئی کے پاس اس کی گنجائش نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں