استعفے کا مطالبہ برقرار، سیاسی رابطے تیز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق صدر آصف زرداری نے نواز شریف سمیت کئی رہنماؤں سے ملاقات کی اور عمران خان، طاہر القادری کو ٹیلی فون بھی کیا

پاکستان میں سیاسی تعطل جاری ہے جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رابطوں میں تیزی آئی ہے جبکہ تحریک انصاف نے وزیراعطم نواز شریف کے مستعفی ہونے کے مطالبے میں لچک نہ دکھانے کا اعلان کیا اور عوامی تحریک کے سربراہ نے حکومت کو 48 گھنٹے کا نیا الٹی میٹم دیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرادری نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور عمران خان کے اتحادی شیخ رشیدسے ٹیلی فون پر رابط کر کے انھیں کہا ہے کہ وہ طاہر القادری اور عمران خان کو مذاکرات کے لیے آمادہ کریں۔

آزادی اور انقلاب مارچ اسلام آباد میں: لائیو

آزادی اور انقلاب مارچ پر خصوصی ضمیمہ

نجی ٹی وی چینل، سماء نیوز سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کے مطابق انھوں نے سابق صدر کو بتایا کہ ’عمران خان اور طاہر القادری بہت آگے نکل چکے ہیں اور دونوں رہنماؤں کو سمجھانا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔‘

شیخ رشید نے بتایا کہ سابق صدر کا خیال ہے کہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کچھ لو اور دو کی پالیسی کے تحت معاملے کو حل ہونا چاہیے۔اگر فیصلہ نہ کر پائے تو موجودہ نظام کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

سابق صدر آصف زرداری نے شیخ رشید کے علاوہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے بھی ٹیلی فون پر رابط کیا ہے تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی زیادہ تفصیل سامنے نہیں آ سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسلم لیگ نون نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ شروع کیا ہے

پیر کو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اسلام آباد میں تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد سراج الحق کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں انتخابی اصلاحات اور انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے تشکیل سے اتفاق کیا ہے لیکن ان کی جماعت کے پاس اس سے زیادہ لچک کی گنجائش نہیں۔

’جو لچک دکھانی تھی وہ دکھا دی ہے ، پی ٹی آئی مثبت سوچ لے کر آگے بڑھی ہے، اگر حکومت 30 دن کے لیے وزیراعظم نواز شریف کی علیحدگی برداشت نہیں کر سکتی تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلئے کا حل نہیں چاہتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے پھر اعلان کیا کہ وہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے تک اسلام آباد سے نہیں جائیں گے

تحریک انصاف کے ایک اور سینیئر رہنمارہنما جہانگیر ترین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے نگراں حکومت اور پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے پر مصالحت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن معاملہ بس وزیرِاعظم کے استعفے پر اٹک گیا ہے اور یہ استعفیٰ علامتی ہے۔

دوسری جانب حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کی جانب سے بھی مختلف شہروں میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا اور اسحتکام پاکستان کے نام سے لاہور، راولپنڈی/ اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں جلوس نکالے گئے۔

پیر کو ہی سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو شاہراہِ دستور خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا اور اس کے بعد جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طاہر القادری نے حکومت کو مستعفیٰ ہونے کی نئی مہلت دے دی ہے

تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی شاہراہ دستور پر عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے حکومت مخالف احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔

عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو وزیراعظم سمیت مستعفی ہونے کی 48 گھنٹے کی ایک نئی مہلت دیتے ہوئے خبردار بھی کیا کہ دو دن کے بعد وہ کسی بھی صورتحال کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مبینہ انتخابی دھاندلیوں میں موجودہ وزیراعظم نواز شریف کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے تک ان کا دھرنا جاری رہے گا۔

اسی بارے میں