سپریم کورٹ کا شاہراہِ دستور خالی کروانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سٹاف نے شکایت کی ہے کہ مظاہرین اُنھیں ہراساں کر رہے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو شاہراہ دستور خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ منگل کو سپریم کورٹ کے جج شاہراہ دستور سے عدالت آنا چاہیں گے۔

تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے کارکن اسلام آباد کے ریڈ زون میں تقریباً ایک ہفتے سے پارلیمان کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم نواز شریف کا استعفیٰ لیے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے عدالت کو شاہراہِ دستور کو خالی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل اور ان دونوں جماعتوں کے وکلا سے کہا ہے کہ وہ آج ہی اس بارے میں طریقۂ کار طے کر لیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام اور شہریوں کے حقوق سے متعلق دائر سات درخواستوں کی سماعت کی۔

ایک درخواست گزار اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شفقت چوہان نے کہا کہ شاہراہ دستور پر ان جماعتوں کے کارکنوں کا قبضہ ہے جس کی وجہ سے سائلین کو سپریم کورٹ میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان جماعتوں کے کارکنوں کے ہاتھوں بےبس دکھائی دیتے ہیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شاہراہ دستور پر احتجاجیوں کا قبضہ ہے اور وہ گاڑیوں کو چیک کر رہے ہیں جبکہ یہ ذمہ داری پولیس کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شاہراہ دستور بند ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ کے جج دوسرے راستے سے آ رہے ہیں اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے عملے کی حاضری بھی گذشتہ ایک ہفتے سے بہت کم رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جہاں سے انصاف ملتا ہے وہاں کپڑے سُکھائے جا رہے ہیں: جسٹس ثاقب نثار

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سٹاف نے شکایت کی ہے کہ مظاہرین اُنھیں ہراساں کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کا دھرنا پریڈ گراؤنڈ میں ہے جہاں پر کوئی بھی سرکاری دفتر موجود نہیں ہے۔

عدالت میں ایک تصویر بھی پیش کی گئی جس میں مظاہرین نے سپریم کورٹ کے بورڈ پر کپڑے ڈالے ہوئے تھے اس پر بیچ میں موجود جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’جہاں سے انصاف ملتا ہے وہاں پر کپڑے سُکھائے جارہے ہیں۔‘

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تحفظات کے بارے میں جماعت کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری کینیڈین شہری ہیں اور وہاں پر وفاداری آئین سے نہیں بلکہ برطانیہ سے ہوتی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی طرف سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ احتجاج ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس میں عدالت کو مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت کے کارکن پرامن ہیں اور کسی صورت کسی بھی سرکاری یا ریاستی عمارت میں داخل نہیں ہوں گے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ان سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اُن کے کارکن پرامن ہیں’تو پھر ان احتجاجی مظاہروں میں ڈنڈے کسی شادی میں ڈانڈیا کھیلنے کے لیے لائے گئے ہیں؟‘

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ حکومت ان دونوں جماعتوں کو سپورٹس کمپلیکس میں جگہ دینے کو تیار ہے اور اس صورت میں شہر کی مختلف شاہراہوں پر رکھے گئے کنٹیر بھی ہٹائے جا سکیں گے۔

سماعت کے دوران ایک اور درخواست گزار اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم مستعفی نہ ہوئے تو پھر تھرڈ امپائر آجائے گا جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے مطابق عمران خان تھرڈ امپائر شاید فوج کو سمجھ رہے ہیں۔

اس پر تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ تھرڈ امپائر سے مراد ’اللہ میاں‘ ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اپنے 31 جولائی 2009 کے فیصلے میں نظریۂ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر چکی ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت 27 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں