پناہ گزینوں کو سکول خالی کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ مطالبات جمہوریت اور اس کے تسلسل کے خاطر خود واپس لے لیے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے ان متاثرین سے کہا گیا ہے جو سکولوں کی میں رہائش پذیر ہیں کہ وہ یکم ستمبر سے پہلے سکول کی عمارتیں خالی کر دیں۔

متبادل رہائش کے طور پر ان افراد کو خیمے دیے جا رہے ہیں لیکن بیشتر افراد کیمپوں میں جانے کو تیار نہیں ہیں۔

خیبر پختونخوا میں سرکاری سکول یکم ستمبر سے کھل رہے ہیں لیکن بنوں ڈومیل لکی مروت نورنگ اور دیگر علاقوں میں بیشتر سکولوں میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے متاثرہ افراد مقیم ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان کے مطابق ان چند اضلاع کے کوئی 15 سو سے 18 سو سکولوں میں متاثرہ افراد رہائش پذیر ہیں جنھیں اب کہا گیا تھا کہ وہ یہ عمارتیں خالی کر دیں تاکہ یکم ستمبر سے ان سکولوں میں تعلیمی سلسلہ شروع ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ ان متاثرہ افراد کو متبادل مقامات یا انھیں مکانات حاصل کرنے کے لیے کرایہ فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ان متاثرین کو خیمے دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ ان خیموں میں رہائش اختیار کر سکیں لیکن بیشتر متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے قائم کیمپوں میں نہیں جائیں گے۔

ان متاثرین نے کہا ہے کہ اب انھیں دوسری مرتبہ نقل مکانی کرنی پڑ رہی ہے۔ پہلی مرتبہ وہ اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے اور اب انھیں ان سکولوں سےنکالا جا رہا ہے۔

ان متاثرین کو پہلے دس اگست کی تاریخ دی گئی تھی جس میں 15 روز کی توسیع کر دی گئی تھی اب لیکن آج 15 روز گزرنے کی بعد بھی بڑی تعداد میں لوگ سکولوں میں رہائش پذیر ہیں۔

بنوں اور لکی سے مقامی لوگوں ن بتایا کہ خیمے ملنے کے بعد اب متاثرہ افراد ان شہروں میں ایسے مقامات دیکھ رہے ہیں جہاں وہ خیمے لگا سکیں یا کرائے کے مکان حاصل کریں ۔

محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ ان متاثرین کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ معطل نہیں کیا جا سکتا اس لیے انھیں متبادل جگہ فراہم کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں ان سکولوں کی عمارتوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ آئی ڈی پیز کی رہائش کی وجہ سے عمارتوں اور فرنیچر کو نقصان پہنچ جاتا ہے جبکہ صفائی اور رنگ روغن بھی کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے کوئی 56 ہزار خاندان بے گھر ہوئے ہیں جو ان دنوں خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ بنوں میں چند خاندان ہی متاثرین کے لیے قائم کیمپ میں سر چھپائے ہوئے ہیں۔

ان متاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی کے بارے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے کم از کم ان علاوں کو واپسی کو سلسلہ شروع کر دیا جائے تاکہ وہ سکون کی سانس لے سکیں۔

اسی بارے میں