وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمے کا فیصلہ برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے وزیراعظم ، وزیراعلی، چار وفاقی وزراء اور سابق وزیر قانون سمیت 21 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں پنجاب پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں ہلاکتوں کے سلسلے میں وزیر اعظم، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت حکومت کے 21 اراکین کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمود مقبول باجوہ نے اپنے مختصر فیصلے میں چار وفاقی وزراء کی متفرق درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جس میں تھانہ فیصل ٹاؤن پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منہاج القرآن کے ڈائریکٹر کی جانب سے دی گئی درخواست پر مقدمہ درج کریں۔

اس درخواست میں کہاگیا ہے کہ 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں پولیس ایکشن میں ہلاک ہونے والے عوامی تحریک کے 14 کارکنوں کے قتل کا مقدمہ وزیر اعظم، وزیراعلیٰ پنجاب کے علاوہ صوبائی وزیر قانون اور چار وفاقی وزراء وزیر مملکت اور پولیس اور سول افسروں کے خلاف درج کیا جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے اس درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا حکم 10 روز پہلے دیا تھا لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔ چار روز پہلے وفاقی وزراء پرویزرشید، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور عابد شیر علی نے ذاتی حیثیت میں اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سترہ جون کو پولیس نے منہاج القرآن سیکرٹریٹ کےسامنے سے بیئریر ہٹانے کے لیے جو کارروائی کی تھی اس میں چودہ افراد ہلاک اور نوے سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیتے ہوئے ایک لارجر بینچ تشکیل دینے کی اپیل کی جبکہ وفاقی وزراء کے وکیل نے کہا کہ سیشن عدالت نے انھیں سنے بغیر یک طرفہ فیصلہ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ منہاج القرآن کی انتظامیہ جوڈیشل انکوائری میں بھی پیش نہیں ہوئی اور جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم سے بھی تفتیش کے سلسلے میں تعاون نہیں کیا۔

منہاج القرآن کے وکلاءنے کہا کہ ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ یعنی ایف آئی آر کا اندراج ہر کسی کا حق ہے۔ ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے درخواست گذار یعنی وفاقی وزراء اپنے موقف کے حق میں ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے ہیں اس لیے ان کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

دوسری جانب منہاج القرآن کے وکلاء نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقل لیکر وہ تھانہ فیصل ٹاؤن جا رہے ہیں جہاں ایک بار پھر وہ پولیس کو مقدمہ درج کرنے کے لیے کہیں گے۔

اس صورتحال پر قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ مقدمہ درج نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ پولیس افسر کے خلاف پولیس آڈر کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے اور تین سال قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 17 جون کو پولیس نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ کےسامنے سے بیئریر ہٹانے کے لیے جو کارروائی کی تھی اس میں 14 افراد ہلاک اور 90 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ بیشتر زخمیوں کو براہ راست گولیاں لگی تھیں۔

پولیس نے ان ہلاکتوں کا مقدمہ پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج کر لیا تھا اور منہاج القرآن سیکرٹریٹ کی جانب سے دی گئی درخواست پر نئی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں کارکن ان دنوں اسلام آباد کے ریڈ زون میں دھرنا دیے بیٹھےہیں اور ان کے دیگر مطالبات میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ ان کی درخواست پر حکمرانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

اسی بارے میں