عوامی تحریک شاہراہ دستور خالی کرنے کو تیار نہیں: اٹارنی جنرل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان عوامی تحریک نے شاہراہ دستور کے ایک حصے کو کسی حدتک کھولنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے شاہراہ دستور کو خالی کروانے سے متعلق سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں ایک رپورٹ جمع کرا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک شاہراہ دستور کو مکمل طور پر خالی کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک نے شاہراہ دستور کے ایک حصے کو کسی حدتک کھولنے اور ٹریفک میں سہولت دینے میں رضا مندی ظاہر کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو دو متبادل جگہیں فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی جن میں سے ایک فیض آباد کے قریب پریڈ گراؤنڈ اور دوسری سپورٹس کمپلکس ہے لیکن یہ دونوں جماعتیں وہاں جانے کو تیار نہیں ہیں۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دونوں جماعتوں کو جاری ہونے والے این او سی میں کہا گیا ہے کہ وہ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے لیکن دونوں جماعتوں کی قیادت نے اس کی خلاف ورزی کی ہے۔

اٹارنی جنرل اور ضلعی انتظامیہ کے افسران پیر کے شب شاہراہ دستور پر گئے تھے اور وہاں پر پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو سپریم کورٹ کے احکامات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کی تقریر کا متن بھی جمع کروایا گیا ہے جس میں اُنھوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ کرنے اور مطالبات پورے نہ ہونے پر دمادم مست قلندر ہونے کی دھمکی دی تھی۔ تقریر کا یہ متن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ کی جانب سے جمع کروایا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے بھی ایک رپورٹ رجسٹرار آفس میں بھی رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُن کی جماعت کا احتجاجی مظاہرہ پریڈ ایونیو پر ہو رہا ہے جہاں پر کوئی سرکاری دفتر موجود نہیں ہے اور نہ ہی لوگوں کو وہاں سے گزرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کا اطلاق اُن پر نہیں ہوتا۔

پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے شاہراہ دستور مکمل طور پر خالی کرنے سے انکار کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے ضلعی انتظامیہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے نئی حکمت عملی بنائی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے عوامی تحریک کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کی تو اُن کی جماعت کے کارکن عوامی تحریک کے کارکنوں کے ساتھ مل کر پولیس کا مقابلہ کریں گے۔

اسی بارے میں