ناراض اراکین نے الگ گروپ تشکیل نہیں دیا: سواتی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تحریکِ انصاف کے تقریباً 11 ارکانِ قومی اسمبلی نے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی پارٹی پالیسی پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا

پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا کے صدر اعظم سواتی نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ناراض ارکانِ قومی اسمبلی کے فوکل پرسن ایم این اے گلزار خان نے اپنا استعفیٰ پارٹی کے سربراہ عمران خان کو دے دیا ہے تاہم اس دعویٰ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

منگل کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے صوبائی صدر اعظم سواتی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض اراکینِ قومی اسمبلی استعفوں کے معاملے پر ناراض ضرور ہوئے تھے تاہم اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ انھوں نے پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے اپنا الگ گروپ تشکیل دے دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گلزار خان سمیت چند ارکانِ قومی اسمبلی اس بات پر ناراض تھے کہ ان سے استعفے دینے کے معاملے پر مشاورت نہیں کی گئی تاہم اب یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔

اعظم سواتی کے مطابق ناراض ارکان کے فوکل پرسن گلزار خان نے اپنا استعفیٰ صوبائی وزیر شاہ فرمان کے ذریعے پارٹی کے سربراہ عمران خان کو بھیج دیا ہے۔

اس سلسلے میں ناراض ارکان کے فوکل پرسن گلزار خان اور ان کے ساتھیوں کا موقف معلوم کرنے کے لیے ان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

خیبر پختونخوا میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیرِ اعلی پرویز خٹک کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد لانے کے حوالے سے اعظم سواتی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اسمبلی میں 63 ارکان کی اکثریت ثابت کرنا ہوگی اور اگر وہ کامیاب ہوگئے تو بے شک انھیں آئینی طورپر حکومت تشکیل دینے کا حق ہے۔

انھوں نے ان اطلاعات کی بھی سختی سے تردید کی کہ صوبائی اسمبلی میں تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے بعض ناراض ارکان نے وزیرِ اعلی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے ایک سوال پر صوبائی صدر نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے تاہم اس بات کا اختیار پارٹی کے سربراہ عمران خان کے پاس ہے اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ سب کو قبول ہوگا۔

ِخیال رہے کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تحریکِ انصاف کے تقریباً 11 ارکانِ قومی اسمبلی نے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی پارٹی پالیسی پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

اس گروپ نے پشاور سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی اور سابق بیوروکریٹ گلزار خان کو اپنا فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف میں چند ماہ پہلے صوبائی اسمبلی میں بھی کچھ اراکین نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی اور ایک علیحدہ گروپ بنانے کا عندیہ دیا تھا لیکن جماعت کی طرف سے ان کے تمام شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس کے بعد کابینہ میں بھی ردو بدل کیا گیا اور بعض اراکین سے وزارتیں واپس لے لی گئی تھیں۔

اسی بارے میں