آخر دھرنوں کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھےگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احتجاج کو چودہ روز ہونے کو ہیں اور معاملات ابھی تک ڈیڈ لاک کا شکار دکھائی دیتے ہیں

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے جتنے طول پکڑتے جا رہے ہیں۔

ملک میں سیاسی اقتصادی اور سلامتی سے متعلق مسائل بھی اتنے ہی گھمبیر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

عوامی حلقوں میں تشویش پیدا ہو رہی ہے کہ آخر دھرنوں کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھےگا؟

یہ احتجاج شروع ہوئے 14 روز ہونے کو ہیں اور معاملات ابھی تک ڈیڈ لاک کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والی جماعتوں سے حکومت اور دوسرے سیاستدانوں کے رابطے بھی کئی بار ہو چکے ہیں جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق تحریک انصاف اور عوامی تحریک دونوں کے ساتھ مذاکرات میں حکومت کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ’اب تک پی ٹی آئی سے مذاکرات کے چار دور اور ان گنت فون رابطے ہوئے لیکن (عمران خان کی) ایک ضد ہے کہ چونکہ میں کہہ دیا ہے کہ وزیراعظم استعفی دے دیں، اس لیے انھیں استعفی دینا پڑے گا۔ بھلے 30 دن کے لیے۔ کیا وزیراعظم کے دفتر کو او ایس ڈی کا درجہ دے دیا جائے؟ بھلا ایسے ملک چلایا جا سکتا ہے۔‘

سعد رفیق نے بتایا کہ عوامی تحریک سے سات بار مذاکرات ہو چکے ہیں، لیکن دونوں جماعتوں کے ساتھ بات چیت میں عمران خان سے براہ راست کسی مذاکرات کار کو رسائی نہیں ملی جبکہ طاہرالقادری سے مذاکراتی کمیٹیوں کی صرف ایک ملاقات ہوئی۔

ان براہ راست رابطوں کے علاوہ ایم کیو ایم، پاکستان پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی بھی عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی حکومت سے مصالحت کروانے کی کوششوں میں سرگرم دکھائی دیں۔

سنیچر کو پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے رائیونڈ میں وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی تو اس ملاقات سے بہت سی توقعات وابستہ کر لی گئیں۔انھوں نے رابطے تو کیے لیکن کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔

تجزیہ کار احتشام الحق کہتے ہیں ’ یہ پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا ہو چکا ہے۔ عوام کی تو یہی خواہش ہے کہ معاملات جلد از جلد حل ہوں۔ لیکن یہ حل ہوتے دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ دونوں فریق اپنا اپنا موقف چھوڑنے کو تیار نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انھوں نے ذرا سی بھی لچک دکھائی تو یہ ان کی سیاسی موت ہوگی۔‘

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کراچی میں سندھ کے گورنر سے ملاقات بھی کی ہے۔ اس سے پہلے ایم کیو ایم کا وفد اسلام آباد میں وزیراعظم اور پھر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے ملا۔ دوسری جانب منصورہ میں موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورتی اجلاس بھی ہوا۔

ایم کیو ایم کے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کوئی ایسی پیشکش کریں جس سے معاملات حل ہوجائیں۔

پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ نے بیان دیا کہ وزیراعظم سے اس طرح استعفی لینا اچھی روایت نہیں ہوگی جبکہ جماعت اسلامی کے سراج الحق کا موقف تھا کہ حکومت کی تبدیلی آئین اور دستور کی روشنی میں ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق صدر آصف زرداری بھی مختلف سیاست دانوں سے رابطے کر کے معاملات کو کوششیں کر رہے ہیں

حکومت کے حق میں قومی اسمبلی کی قرارداد کے باوجود لگتا ایسا ہے کہ موجودہ بحران پر تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس کے باوجود بظاہر سب ہی مصالحت کے لیے اپنے اپنے تئیں کوشیشوں میں مصروف ہیں۔ اس کے باوجود حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والا پانچواں دور بھی ناکام ہوچکا ہے۔

تجزیہ کار احتشام الحق کہتے ہیں ’ بظاہر تو حالات میں بہتری ہوتی نظر نہیں آ رہی جب تک کہ فوج مداخلت نہ کرے۔ لیکن فوج براہ راست مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ سیاستدان آپس میں لڑتے مرتے رہیں۔ اگر یہ چاہتے ہیں کہ فوج ان کا گند صاف کرے تو ایسا نہیں ہوگا۔‘

تاہم تجزیہ نگار امتیاز گل کی رائے کچھ مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جو ادارہ خود کو کسی ملک کا محافظ سمجھتا ہے اس کے لیے اس طرح کی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہو سکتی۔ اس کا اظہار نوازشریف اور راحیل شریف کی حالیہ ملاقات سے بھی ہوا۔ یہ تیسرا موقعہ تھا کہ جس میں فوجی قیادت کی طرف سے یہ پیغام آیا کہ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل کو سیاسی انداز میں جلد حل کریں۔ فوج نے بظاہر خود کو اس قضیے سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ وہ درپردہ کس حد تک اس بحران میں ملوث ہیں۔‘

ملک میں تمام سیاسی جماعتیں ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپتی ہیں اور اس کی مضبوطی کے لیے جدوجہد اور قربانیوں کے دعوے بھی کرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن یہ کہنا شاید بے جا نہ ہو کہ اس وقت پاکستان میں ضد کی سیاست اپنے عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔ معاملہ وزیراعظم کے استعفے کا ہو۔ یا پھر سانحہ ماڈل ٹاون میں 21 بااثر حکومتی شخصیات کے خلاف ایف آئی آر کا۔کوئی بھی اپنی جگہ سے ہٹنے کو تیار نہیں!

اسی بارے میں