دھرنوں اور ڈراموں میں مقابلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان اور طاہر القادری پرائم ٹائم کی اہمیت خوب جانتے ہیں

’سیاسی ڈرامہ اتنا دلچسپ اور سنسنی خیز ہے کہ جب سے دھرنے شروع ہوئے ہیں میں نے ایک بھی ڈرامہ نہیں دیکھا۔‘

یہ کہنا ہے اسلام آباد کی خاتونِ خانہ جیہ کا جو آج کل ہر روز شام ڈھلتے ہی اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ ملک میں پھیلے سیاسی انتشار سے متعلق خبروں کے لیے نیوز چینل دیکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ تجسس چینل بدلنے ہی نہیں دیتا کہ دھرنوں میں آج کیا ہو گا۔‘

عمران خان اور طاہر القادری بھی پرائم ٹائم کی اہمیت خوب جانتے ہیں۔

جیسے ہی ٹی وی چینلوں کا پرائم ٹائم یعنی شام کا وقت شروع ہوتا ہے، یعنی جب زیادہ تر لوگ کام کاج ختم کر کے ٹی وی کے سامنے بیٹھتے ہیں تو دھرنوں کا شو شروع ہو جاتا ہے۔ ایک میلہ سا سج جاتا ہے۔ تقاریر کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مظاہرین کو بغیر ٹکٹ کے لائیو موسیقی سننے کا موقع بھی ملتا ہے۔

لیکن پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جاری دھرنے صبح ہوتے ہی مسافر خانے کا پتہ دیتے ہیں۔ مقامی نیوز چینلوں کے صحافیوں اور کیمرا مینوں کے لیے ہدایات ہیں کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس سے ایک پل کے لیے بھی دور نہ جائیں کہ کہیں کوئی خبر رہ نہ ہو جائے۔

عوام کو سب سے پہلے خبر دینے کے جنون کا یہ عالم ہے کہ ایک مقامی ٹی وی چینل کے کیمرا مین فیصل خان نے بتایا کہ وہ دن میں 16 گھنٹے کام کرتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کا کہنا تھا: ’میں 14 اگست سے یعنی دھرنے شروع ہونے کے دو دن پہلے ہی پارلیمنٹ ہاؤس تعینات کر دیا گیا تھا۔ میں ہر روز 12 سے 16 گھنٹے کام کر رہا ہوں۔‘

اس پر ملازمین کے حقوق پر بھی بحث چھڑ سکتی ہے مگر ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آخر عوام کو باخبر رکھنے کے جذبے کے پیچھے مالی مقاصد کس طرح کار فرما ہیں۔

پاکستان میں لگ بھگ 50 ٹی وی چینل چار زبانوں میں دھرنوں کی 24 گھنٹے کی کوریج کر رہے ہیں۔ میڈیا پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق دھرنوں سے متعلق جاری نیوز چینلوں کے درمیان مقابلے میں صرف زیادہ سے زیادہ ناظرین حاصل کرنا ہی شامل نہیں بلکہ ان ناظرین کے ذریعے ملنے والے اشتہارات بھی ہیں۔

احتجاجی دھرنوں کے دوران نیوز چینلوں نے تفریحی چینلوں کو مات دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہاں بغیرمظاہرین کو ٹکٹ کے لائیو موسیقی سننے کا موقع ملتا ہے

یہ اعداد و شمار جمع کرنے کے واحد ادارے ’میڈیا لاجِک‘ نے 14 اگست سے لے کر 24 اگست تک شائقین کی ٹی وی ترجیحات کا مطالعہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتائے۔ ان کے مطابق دھرنوں کی کوریج کے دوران نیوز چینلوں کے ناظرین کی شرح میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ تفریحی چینلوں کے شائقین میں 20 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

ناظرین یا صارفین میں اضافے کے باعت نیوز چینل کے اشتہارات میں بھی 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

جیہ اور دیگر ناظرین جو تجسس محسوس کر رہے ہیں وہ کسی حد تک نیوز چینلوں کی کوریج کا نتیجہ ہے۔ یہی تجسس نیوز چینلوں کے لیے مالی فائدے کا بھی سبب بن رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میڈیا پر نظر رکھنے والے حسن زیدی نے کہا: ’پاکستان میں پرائیویٹ چینلوں کو شروع ہوئے لگ بھگ دس برس ہوئے ہیں اور میں بھی شروع میں بعض نیوز چینلوں سے منسلک تھا، باقی دنیا کے ٹرینڈز دیکھتے ہوئے ہمارا خیال یہی تھا کہ نیوز چینلوں پر پیسے تو بہت لگتے ہیں مگر کمائی کم ہوتی ہے اس لیے ساتھ ساتھ تفریحی چینل کھولنا ضروری ہیں مگر یہاں صورت حال الٹی نکلی۔‘

ان کے مطابق: ’پاکستان میں خبریں دینا، پیسے کمانے کا سب سے مفید ذریعہ بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نہ صرف دھرنے کے شرکا بعض نیوز چینلز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، بلکہ سیاسی انشتار کی وجہ سے ٹی وی چینل بھی پیسے کما رہے ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی نیوز چینلوں کے بیشتر مالکان پروفیشنل یا صحافی نہیں بلکہ کاروباری افراد ہیں۔

حسن زیدی کا کہنا ہے: ’اگر ان دھرنوں کو 24 گھنٹے کی کوریج کی بجائے متوازن کوریج ملتی تو حکومت مخالف دھرنے اتنے بااثر نہ ہوتے اور آج ملک سیاسی بحران کا شکار نہ ہوتا۔‘

آپریشن ضربِ عضب کے متاثرین، بلوچستان کے لاپتہ افراد یا لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل شاید آج کل بیچنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ بیشتر مقامی میڈیا پر ان کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی بارے میں