فورینسک لیب: جرائم کی تفتیش میں موثر ہتھیار

Image caption فورینسک لیب کا کام جرم ہونے کے فوراً بعد ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس کے کرائم سین یونٹ سب سے پہلے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرتے ہیں

لاہور میں امنِ عامہ کی مجموعی صورتِ حال ملک کے دوسرے شہروں سے بہتر تصور کی جاتی ہے۔ لیکن شہر میں کچھ عرصے سے جاری نمایاں شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مخمصے میں مبتلا کر رکھا تھا۔

بالآخر جائے وقوعہ سے ملنے والی معلومات سائنسی بنیادوں پر تحقیق کے ذریعے ان حملوں میں ملوث گروہ کا پتہ لگا لیا گیا۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ملکوں میں ہوتا ہے جو شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ایک برطانوی ادارے ایکشن آن آرمڈ وائلنس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر ہے۔

یہاں 2008 سے 2013 تک اوسطاً روزانہ دو حملے ہوتے رہے ہیں۔

گذشتہ ایک دہائی کے دوران سینکڑوں خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں بھی بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک مثال پنجاب فورینسک سائنس ایجنسی ہے۔ جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات اور ان میں ملوث افراد تک رسائی میں بہت مدد ملی ہے۔

خاص طور پر پنجاب میں بہت سے مجرموں کا سراغ لگانے میں پنجاب فورینسک لیبارٹری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

فورینسک لیب کا کام جرم ہونے کے فوراً بعد ہی شروع ہوجاتا ہے اور اس کے کرائم سین یونٹ سب سے پہلے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرتے ہیں، کیونکہ جرائم کی تحقیقات میں سب سے زیادہ اہمیت جائے وقوعہ کی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مجرموں کے بارے میں تقریباً سارے ثبوت اور شواہد اسی جگہ سے ملتے ہیں جہاں جرم ہوتا ہے۔

صوبہ پنجاب کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس اور سلامتی امور کے ماہر تفتیش میں کرائم سین کی اہیمت کچھ یوں بتاتے ہیں: ’مجرم جائے وقوعہ پر اپنی کوئی نہ کوئی نشانی ضرور چھوڑ کر جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کا ٹیلی فون ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ معلومات کہ بارود انھوں نے کہاں سے لیا۔ خودکش جیکٹ اور اسلحے پر انگلیوں کے نشان اور کبھی ٹیلی فون کی سمیں اور ڈی این اے۔ یہ سب اشیا اگر ٹھیک طریقے سے محفوظ کر لی جائیں تو کہیں نہ کہیں مجرم تک پہنچا دیتی ہیں۔‘

Image caption ڈیڑھ برس میں اس لیبارٹری نے موصول ہونے والے 90 ہزار کیسز میں سے 80 ہزار سے زائد حل کرکے ان کی رپورٹیں جاری کر دی ہیں

لیکن ہمارے ہاں ابھی بھی پولیس کی حد تک تو صورتحال یہ ہے کہ اکثر شواہد جن سے مجرموں تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے پولیس اہلکاروں کے اپنے ہاتھوں ضائع ہوجاتے ہیں۔ تاہم اب فورینسک لیبارٹری کے ماہرین نہ صرف خود جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کررہے ہیں بلکہ پولیس کو اس کام کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔

پنجاب فورینسک سائنس ایجنسی میں 14 شعبے موجود ہیں جہاں جرائم میں استعمال ہونے والے اسحلے کی شناخت سے لے کر فنگر پرنٹس، جعلی دستخط، گاڑی چوری، قتل اور دہشت گردی سمیت ہر طرح کے کیسوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کیا جارہا ہے۔ لیب کے ڈائریکٹر جنرل اشرف طاہر پاکستانی نژاد امریکی ہے اور اس شعبے میں 36 برس کا تجربہ رکھتے ہیں۔

ان کا دعوی ہے کہ یہ ایشیا میں فورینسک کی جدید ترین لیبارٹری ہے۔ اس کی کارکردگی کے بارے میں اشرف طاہر کا کہنا ہے:

’ اس لیبارٹری کو بنے ڈیڑھ برس ہونے کو ہے۔ اس دوران 90 ہزار کیس ہمیں موصول ہوئے جن میں سے 80 ہزار سے زائد ہم نے حل کر کے ان کی رپورٹیں جاری کر دی ہیں۔ یہاں نہ تو کوئی سیاسی مداخلت ہے اور نہ ہی ہم کوئی دباؤ لیتے ہیں۔ ہمارا کام ہے حققیت کا پتہ لگانا اور سچ بیان کردینا۔‘

ملک بھر سے ہزاروں مقدمات کی تفتیش کے لیے ڈی این اے کے نمونے یہیں بھجوائے جاتے ہیں لیکن یہ لیبارٹری صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کام کر رہی ہے۔

پہلے ایک برس تو لیبارٹری نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلامعاوضہ خدمات فراہم کی ہیں۔ لیکن اب پنجاب پولیس کے علاوہ باقی تمام محکموں سے فیس موصول کی جاتی ہے۔

پنجاب فورینسک سائنس لیبارٹری کا شمار ایشیا کی بڑی لیبارٹرز میں ہوتا ہے اور اس کی مدد سے دہشت گردی کے درجنوں مشہور واقعات میں ملوث افراد کا پتہ لگایا جا چکا ہے۔

اس لیب میں جائیداد کے جھگڑوں، زیادتی، قتل، فراڈ اور جعل سازی کے واقعات کا سراغ بھی لگایا جاتا ہے۔ اب پنجاب میں ڈویژن کی سطح پر ڈویژن لیب کے کرائم سین یونٹ بنائے جا رہے ہیں جو کہ اس برس کے اختتام تک مکمل ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں