کل تک شاہراہِ دستور کا ایک حصہ خالی کرانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شاہراہِ دستور پر پاکستان عوامی تحریک کی کارکن موجود ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہ دستور کے ایک حصے کو جمعرات تک مکمل طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ کے رجسٹرار، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے وکلاء کو باہمی کوششیں کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو جمعرات کی صبح تک عدالتی احکامات کی تکمیل سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام اور شہریوں کے حقوق سے متعلق دائر سات درخواستوں کی سماعت کی۔

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کے کارکن حکومت کی طرف سے سماجی ناہمواریوں کے خلاف میدان میں آئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’احتجاج سب کا حق ہے اور جب تک اُنھیں اپنا حق نہیں ملتا پاکستان عوامی تحریک کے کارکن سڑکوں پر ہی رہیں گے۔‘

چیف جسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگریہ مجمع اُن کے کنٹرول میں نہیں ہے تو بتادیں تاکہ عدالت کوئی مناسب حکم فراہم کریں۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری جب تقریر کرتے ہیں تو اُس کے بعد کارکن جذباتی ہوجاتے ہیں اور ایسے میں لوگوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہے۔‘

بینچ میں موجود جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کا حق سب کو ضرور ہے لیکن کیا مجمع اکھٹا کرکے ایک منتخب وزیر اعظم سے زبردستی استعفی لیا جاسکتا ہے؟

اُنھوں نے کہا کہ اگر یہ روایت پڑ گئی تو کل کوئی اور جماعت اس سے بڑا مجمع لے کر اُس وقت کی حکومت کو مستفی ہونے کا مطالبہ کرے گی۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکن گاڑیوں کو روک کر وکلا اور عام لوگوں کی تلاشی لے رہے ہیں جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے شاہراہ دستور سے زیادہ ملکی دستور کا معاملہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک کے دستور اور جمہوریت کو خطرہ ہے۔

اُنھوں نے کہا ملک میں لگنے والے چار مارشل لاؤں کا نام لیے بغیر کہا کہ چار مرتبہ ہڈیوں کے ڈاکٹر دماغ کی سرجری کرچکے ہیں اور اب اُنھیں پانچویں بار ایسا کرنے سے روکنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مظاہرین کو متبادل جگہیں کرنے سے متعلق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کی طرف سے رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں مختلف معاملات پر سیاست چمکا رہی ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سیاسی گند عدالت میں نہ لائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت کسی کو احتجاج کرنے سے نہیں روک سکتی۔ اُنھوں نے کہا کہ ملکی آئین کا تحفظ کیا جائے۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ملک کی آزاری کے بعد جو نعمت ملی ہے وہ پاکستان کا متفقہ آئین ہے جس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

بیبچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ججز کا کام انصاف فراہم کرنا ہے لیکن ابھی تک ججز کو بھی سپریم کورٹ پہنچنے میں رکاوٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ احتجاج کا طریقہ کار اور ایک حد ہونی چاہیے۔

عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ کے رجسٹرار اور مظاہرہ کرنے والی دونوں جماعتوں کے وکلا نے شاہراہ دستور کا دورہ کیا۔

اسی بارے میں