امریکہ: پاکستانی شہری دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ اور بھارت لشکر طیبہ کو بھارت میں سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں

امریکہ نے غیر ملکی کرنسی کا لین دین کرنے والے ایک پاکستانی شہری کو شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی مدد کرنے کے الزام میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق لاہور کے رہائشی محمد اقبال اور ان کی کمپنی آسماں منی ایکسچینج پر مالی پابندیاں بھی لگا دی گئی ہیں۔

امریکہ اور بھارت لشکر طیبہ کو بھارت میں سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، اس حملے میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے افسران ڈیوڈ کوہن کے مطابق محمد اقبال لشکرِطیبہ اور اس سے منسلک تنظیموں کے لیے پیسہ اکٹھا کرنے اور لین دین کا کام کرتے ہیں۔

کوہن کا کہنا تھا: ’فوریکس کی لین دین کرنے والے اداروں کو ہوشیار رہنا ہوتا ہے جس سے دہشت گردوں کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے باہر رکھا جا سکے تاہم محمد اقبال نے اپنے کاروبار کے ذریعہ اس اعتماد کا غلط فائدہ اٹھایا۔‘

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ محمد اقبال ’فلاحِ انسانیت‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے بانیوں میں سے ہیں۔

امریکہ نے سنہ 2010 میں اس ادارے کو لشکرِ طیبہ کا فرنٹ قرار دیا تھا۔

امریکہ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو بھی دہشت قرار دے کر ان پر دس لاکھ ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں