انتخابی دھاندلی کی تحقیقات میں فوج نیوٹرل امپائر ہو گی: عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جعمرات کو بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل کی وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات ہوئی تھی جس میں معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے جمعرات کی نصف شب راولپنڈی میں آرمی چیف سے ملاقات کی ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے آرمی چیف کو بتایا ہے کہ جب تک نواز شریف ہیں اس وقت تک انتخابی دھاندلی کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انھیں بتایا ہے کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات میں فوج نیوٹرل امپائر ہو گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے انھیں یقین دلایا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے گا۔

جمعرات کی رات اسلام آباد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہم کل ن لیگ کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے اور اگر ہماری انڈر سٹینڈنگ ہو گئی تو کل جشن ہو گا۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کے استعفے تک ان کا دھرنا جاری رہے گا اور اگر کل دوپہر تک نواز شریف کا استعفیٰ نہ آیا تو وہ شام کو اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

انھوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم اپنے مقصد کے بہت قریب آ چکے ہیں صرف وزیراعظم کا استعفیٰ باقی ہے۔ اگر ہمارا مطالبہ نہ مانا گیا تو دھرنے کو ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا دیا جائے گا۔‘

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جمعرات کی رات گئے اسلام آباد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں انقلاب کے پورے ایجنڈے پر بات ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ وہ آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے مطمئن اور پرامید ہیں کہ انقلاب مارچ کے مقصد کے حصول کے لیے آرمی چیف اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ شریف برادران نے سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کے معاملے پر دھوکا دیا ہے۔ میڈیا کو دی جانے والی ایف آئی آر کچھ اور ہے جبکہ اصل ایف آئی آر کچھ اور ہے۔ صبح آرمی چیف پرانی ایف آئی آر منسوخ کرا کے نئی ایف آئی درج کرائیں گے۔

ڈاکٹر قادری کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف اور شہباز شریف نے استعفیٰ نہیں دیا تو پھر ’دما دم مست قلندر‘ ہوگا۔

اس سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقات کی تھی۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے اس ملاقات سے پہلے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ثالث مقرر کر دیا ہے۔

ادھر تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے کارکنوں سے موجودہ سیاسی بحران میں بری فوج کے سربراہ کی ثالثی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مذاکرات کرنے کا کہا ہے۔

جعمرات کو بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل کی وزیراعظم نواز شریف سے تین دن کے دوران دوسری ملاقات ہوئی تھی اور اس ملاقات میں معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کے مطابق نواز شریف کی درخواست پر جنرل راحیل نے یہ ملاقات کی تھی۔

حکومت نے جمعرات کو ماڈل ٹاؤن واقعے کا مقدمہ درج کرنے میں لچک دکھائی اور شام کو لاہور کے فیصل ٹاؤن تھانے میں وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف سمیت 21 حکومتی شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جعرات کی رات راولپنڈی میں آرمی چیف سے ملاقات کی تھی

عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جمعرات کو یوم انقلاب کا اعلان کرنے کے ساتھ حکومت کو خبردار بھی کیا تھا کہ اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

تاہم جعمرات کی رات کو شاہراہ دستور پر جمع اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے موجودہ صورت حال میں فوجی سربراہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ جنرل راحیل نے 24 گھنٹوں میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ مل کر معاملات کو حل کرنے کے لیے فارمولا تیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔

انھوں نے کہا: ’پاکستان آرمی کے سربراہ نے ثالث اور ضامن بن کر ہمارے تمام مطالبات کا پیکج تیار کرنے کے لیے 24 گھنٹے مانگے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آرمی ضامن بنی ہو۔‘

دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے طاہر القادری کی تقریر سے کچھ دیر پہلے کئی دنوں سے متوقع اپنا اہم اعلان موخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہیں مذاکرات ہو رہے ہیں اور وہ اس کے نتیجے کے منتظر ہیں۔

طاہر القادری کی موجودہ صورت حال میں فوج کی مداخلت کے اعلان کے فوری بعد عمران خان نے اپنے دھرنے کے شرکا سے خطاب میں کہا: ’جنرل راحیل نے کہا ہے کہ مذاکرات کریں اور 24 گھنٹے کے لیے رک جائیں۔‘

انھوں نے دھرنے کے شرکا سے کہا کہ کل یا تو خوشخبری ملے گی یا پھر تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اور نواز شریف اس وقت بند گلی میں کھڑے ہیں۔

اس پیش رفت سے پہلے مقامی ذرائع ابلاغ میں وفاقی وزیر داخلہ سے منسوب بیان نشر ہونا شروع ہوا تھا جس میں فوج کوسیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اسی بارے میں