لاہور: ماڈل ٹاؤن واقعے کے لیے لارجر بنچ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کمیشن کو ذمے داروں کے تعین کا اختیار ہی نہیں دیا گیا تھا: درخواست گزار

لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمے داروں کے تعین کے لیے لارجر بنچ بنانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی درخواست پر دیا ہے جس میں انھوں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو نامکمل قرار دیا تھا اور پنجاب جوڈیشل انکوائری ٹرائبیونل آرڈیننس کے اس کی شق کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت حکومت کو اپنی مرضی سے انکوائری ٹرائبیونل بنانے اور ان کے دائرۂ کار کے تعین کا اختیار حاصل ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ 17 جون کو جب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لیے ایک رکنی جوڈیشل کمیشن بنایا تو اسے صرف ان وجوہات کی نشاندہی کرنے کا اختیار دیا گیا جس کے تحت منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا، جس کے دوران فائرنگ ہوئی اور 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ کمیشن کو ذمے داروں کے تعین کا اختیار ہی نہیں دیا گیا تھا۔

اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ 20 جون کو سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل کمیشن کے رجسڑار نے خط بھی لکھا جس میں اختیارات بڑھانے کی استدعا کی گئی لیکن پنجاب حکومت نے بدنیتی سے ان کے اختیارات نہیں بڑھائے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جوڈیشل انکوائری آرڈیننس کی شق 11 مارشل لا کے دور میں شامل کی گئی تھی لیکن جمہوری حکومتیں اسے اپنے سیاسی فائدے کے لیے وقتاً فوقتاً استعمال کرتی رہی ہیں۔ اسی لیے انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس شق میں ترمیم کی جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امیر علی بھٹی نے اس معاملے میں بظاہر واضح قانونی ابہام سے اتفاق کرتے ہوئے معاملہ لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا ہے۔

اسی بارے میں