قانون کا سامنا کرنے کو تیار ہیں: سعد رفیق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے خود ہی مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا ہے گو کہ حکومت اب بھی مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریلوے سعد رفیق نے کہا ہے کہ حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر درج کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرے گی۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بدھ کی رات والے مذاکرات میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری سے اپیل کی گئی تھی کہ لوگوں کو مزید اشتعال نہ دلائیں اور دارالحکومت کا امن خراب نہ کریں۔

جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ہمارے پاس انٹرا کورٹ اپیل اور سپرریم کورٹ میں اپیل کا حق ہے تاہم ہم اس سے دستبردار ہو رہے ہیں اور قانون کا سامنا کریں گے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومت کا موقف ہے کہ طاہر القادری کی جانب سے کیے جانے والے اسمبلیوں کی تحلیل اور حکومت کے خاتمے کے مطالبے آئین سے متصادم ہیں

انھوں نے کہا: ’ہم یہ قیمت دینے کو تیار ہیں۔ ہم نے بارہا جمہور اور آئین کے لیے پہلے بھی قربانیاں دی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گو کہ اس مقدمے میں وفاقی وزرا اور وزیرِ اعظم کو نامزد کیا گیا ہے جنھیں اس واقعے کا علم تک نہیں تھا پھر بھی ہم نے طاہر القادری سے کہا کہ آپ کی تسلی کے لیے ہم خود پر یہ مقدمہ کروانے کو تیار ہیں۔‘

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت نے مولانا طاہر القادری کو پیش کش کی تھی کہ واقعے کی تحقیقات کسی اچھی شہرت رکھنے والے غیر جانبدار افسر سے کروانے کو تیار ہیں۔ تاکہ آپ کو یقین ہو کہ ہم اثر انداز نہیں ہوں گے۔‘

سعد فریق کا کہنا تھا کہ مولانا طاہر القادری کے دس میں سے چھ مطالبات کا تعلق ان کی مجوزہ اصلاحات سے ہے جو ان سے طلب کی گئی ہیں تاہم ابھی تک ان کا کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں کی تحلیل اور حکومت کے خاتمے کے مطالبے آئین سے متصادم ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنے کے بارے میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ان کی جماعت کے سینیئر رہنما رمضان کے مہنیے سے ہی پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ رابطے میں تھے تاکہ اس لانگ مارچ کے منصوبے کو ملتوی کر کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر مل کر پارلیمان میں کوئی نظام تشکیل دیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان نے ریڈ زون میں نہ آنے کی یقین دہانی کروانے کے بعد وعدہ خلافی کی اور وہ احتجاج اور دھرنے کے نام پر غیر پارلیمانی زبان استعمال کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں ان کے چھ میں سے پانچ مطالبات فوری تسلیم کر لیے گئے تاہم وزیرِ اعظم کے استعفے سے متعلق پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں حزبِ اختلاف سمیت یہ اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ کسی کا جرم ثابت ہوئے بغیر اس سے استعفیٰ نہیں طلب کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لشکر کشی کر کے کسی کو گھر بھیجنے کی روایت اگر پڑ گئی تو یہ سلسہ کبھی رکے گا نہیں۔‘

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے خود ہی مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا ہے گو کہ حکومت اب بھی مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

اس موقعے پر خواجہ آصف نے کہا کہ ’حکومت نے احتجاج کرنے والی جماعتوں کے تمام تر اشتعال انگیز بیانات کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور آئندہ بھی حکومت ان کو سیاست چمکانے کے لیے لاشیں نہیں دے گی۔‘

اسی بارے میں