فوج کی ضمانت کے باوجود فریقین اپنے موقف پر قائم

Image caption آج کسی وقت بری فوج کے سربراہ کی وزیراعظم سے ملاقات متوقع ہے جس کے بعد معاہدے کی شقوں کو حتمی شکل دی جائے گی

ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل میں بری فوج کے سربراہ کے ضامن بننے کے باوجود تنازع کے فریقین ابھی تک اپنے اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم دکھائی دے رہے ہیں۔

گذشتہ رات شروع ہونے والے ان مذاکرات کے بارے میں معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی سربراہ سے ہونے والی ملاقات میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نواز شریف اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے شہباز شریف کے استعفے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری طرف نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی کہ کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی ثالثی میں سیاسی بحران کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ابھی تک حکومت کی طرف سے نہ کسی کے استعفے کی پیشکش کی گئی ہے اور نہ ہی ان سے ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

’حکومت کے ساتھ فوجی سربراہ کے رابطوں کے دوران کسی بھی موقعے پر کسی بھی شخصیت کے مستعفی ہونے کی بات نہیں ہوئی ہے۔‘

وزیراعظم کے بعض قریبی رفقا کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں اب تک زیر بحث آنے والی تمام تجاویز عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں ہلاکتوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات پر مرکوز ہیں۔

ان سرکاری افراد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفوں کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان شخصیات نے استعفے ہی دینے ہیں تو پھر جنرل راحیل کی ضمانت کس لیے ہو گی؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ آج کسی وقت بری فوج کے سربراہ کی وزیراعظم سے ملاقات متوقع ہے جس کے بعد معاہدے کی شقوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور ان کا اعلان کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ بری فوج کے سربراہ سے گذشتہ رات ملاقات کے بعد عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کا استعفیٰ نہ آنے کی صورت میں وہ پورے ملک میں دھرنے دیں گے۔

اسی بارے میں