سرفراز شاہ قتل: رینجرز اہلکار کی سزائے موت معطل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جون 2011 کو کراچی کے بےنظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہلکار کی فائرنگ میں میٹرک کا طالب علم سرفراز شاہ ہلاک ہوگیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سرفراز شاہ قتل کیس میں رینجرز کے ایک اہلکار کی سزائے موت کو معطل کر دیا ہے تاہم عمر قید کو برقرار رکھا ہے۔

جج صاحبان نے سرفراز شاہ واقعے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ جاری کیا۔

سپریم کورٹ میں جمعے کو سرفراز شاہ کے بھائی سالک شاہ بھی پیش ہوئے جنھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ رینجرز اہلکاروں کو معاف کر چکے ہیں، جس پر عدالت کا کہنا ہے کہ دفعہ 302 میں تو معاف کیا جا سکتا ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کی دفعہ سات میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں رینجرز اہلکار شاہد ظفر کی سزائے موت کو معطل کر دیا تھا، جبکہ عمر قید کی سزا برقرار رکھی جبکہ دیگر اہلکاروں کی اپیل مسترد کر دی۔

یاد رہے کہ جون 2011 کو کراچی کے بےنظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہلکار کی فائرنگ میں میٹرک کا طالب علم سرفراز شاہ ہلاک ہوگیا تھا۔ سندھی نیوز چینل ’آواز‘ کے کیمرا مین اتفاقی طور پر وہاں موجود تھے، جنھوں نے اس سارے واقعے کی عکس بندی کی تھی جس کے بعد یہ ویڈیو ہر چینل تک پھیل گئی۔

رینجرز کے وکیل خواجہ نوید کا موقف تھا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتا، سرفراز شاہ کے ورثا بھی ملزمان کو معاف کر چکے ہیں اس کے باوجود سزائیں سنائی گئیں اور ہائی کورٹ نے بھی انھیں بحال رکھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے اپیل کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ واقعے کی ویڈیو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ انسداد دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

اس سے پہلے کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نےسرفراز شاہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے رینجرز کے اہلکار شاہد ظفر کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا، جبکہ دیگر چھ ملزمان کو عمر قید اور دو دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان میں سب انسپکٹر باہو رحمان، ڈرائیور منٹھار علی، سپاہی لیاقت علی، محمد طارق اور محمد افضل اور پارک کے سکیورٹی گارڈ افسر خان شامل تھے ۔

فردِ جرم میں کہا گیا تھا کہ 11 جون 2011 کو مقتول سرفراز شاہ کو شاہد ظفر نے فائر کر کے قتل کیا جو دہشت گردی کا عمل تھا اور اس سے عوام میں خوف کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی اس مقدمے کا ازخود نوٹس لیا تھا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

سرفراز شاہ کے بھائیوں نے بعد میں ملزمان سے صلح کر لی اور سندھ ہائی کورٹ میں ملزمان کی سزائیں ختم کرنے کی اپیل کی گئی لیکن عدالت نے اس بنیاد پر یہ صلح نامہ مسترد کر دیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں صلح کی گنجائش موجود نہیں۔

اسی بارے میں