شمالی وزیرستان میں بمباری، 32 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آپریشن ضرب عضب میں سکیورٹی فوسرز نے کیا اہداف حاصل کیے اس بارے میں آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب غضب میں کارروائی کے دوران مزید 32 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سنیچر کی صبح شمالی وزیرستان کے علاقے بانگیدر میں جنگی ہیلی کاپٹروں کی کارروائی میں شدت پسندوں کے تین ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی میں دھماکہ خیز مواد سے بھری 23 گاڑیاں اور اسلحے کے چار ذخائر کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں 12 جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے آغاز پر کارروائی میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تقریباً تواتر سے میڈیا کو آگاہ کیا جاتا تھا تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے فوجی آپریشن کے بارے میں سرکاری معلومات کی فراہمی میں کمی آئی ہے۔

آپریشن ضرب عضب میں سکیورٹی فوسرز نے کیا اہداف حاصل کیے اس بارے میں آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ علاقے تک آزاد میڈیا سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو رسائی حاصل نہیں۔

تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے اب تک صرف ایک بار ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو میر علی کا دورہ کروایا گیا تھا۔

رواں ماہ کے شروع میں فوجی حکام کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والے 500 سے زائد شدت پسندوں میں مقامی شدت پسندوں کے علاوہ غیر ملکی، خصوصاً ازبک شدت پسند بھی شامل ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق آپریشن کے اعلان کے بعد شمالی وزیرستان سے کل 53 ہزار186 خاندانوں نے نقل مکانی کی جو اب کیمپوں، کرائے کے گھروں یا پھر اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں