بلوچستان رکن اسمبلی کا ’نوجوان بیٹا لاپتہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’بلوچ نوجوانوں کو اٹھا کر لاپتہ کردیا جاتا ہے اور بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں‘

کراچی سے بلوچستان کے سابق رکن اسمبلی اور قائد حزب اختلاف کچکول علی کے نوجوان بیٹے نبیل بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

نبیل بلوچ کی بہن ماہ پارہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی سنیچر کو دوپہر کو کھانا کھاکر گارڈن ویسٹ میں واقع گھر سے نکلے تھے، جس کے چند گھنٹوں کے بعد ایک رشتے دار نہ آ کر بتایا کہ ایک سفید رنگ کی بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی میں سوار لوگ نبیل کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

کچکول علی پنجگور سے تین بار رکن صوبائی اسمبلی رہے ہیں، 2002 میں قائد حزب اختلاف تھے، جبکہ اس سے پہلے وہ صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے چکے تھے ان کا تعلق موجودہ حکمران جماعت نیشنل پارٹی سے رہا جس کے بعد انھوں نے بلوچستان نیشنل موومنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔

بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ ، لالہ منیر اور شیر محمد بلوچ کو 2009 میں تربت میں کچکول علی ایڈووکیٹ کے چیمبر سے نامعلوم افراد اٹھاکر لے گئے تھے، جس کے بعد ان کی تشدد شدہ لاشیں تربت سے 40 کلومیٹر دور سے ملی تھیں۔

کچکول علی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے جب اپنے موقف کا اظہار کیا تو ریاستی ادارے ان کے دشمن بن گئے، جس کے بعد انھیں جان بچاکر ناروے میں پناہ لینی پڑی تھی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ان سے بدلہ لینے کے لیے ان کے 21 سالہ بیٹے نبیل کو گرفتار کیا گیا ہے، جس پر کسی نوعیت کا کوئی الزام ہے۔ انھیں خدشہ ہے جس طرح پہلے بلوچ نوجوانوں کو اٹھا کر لاپتہ کر دیا جاتا ہے اور بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں اسی طرع ان کے بیٹے کے ساتھ بھی ایسا کیا جائے گا۔

دوسری جانب بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی سربراہ بی بی گل کا دعویٰ ہے کہ تمپ میں آپریشن کیا جا رہا ہے، جس میں ہیلی کاپٹر سے شیلنگ بھی کی گئی ہے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دو گولے ان کے گھر میں بھی گرے ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسی بارے میں