’بحران کو سیاسی طور پر وقت ضائع کیے بغیر فوری حل ہونا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں اس اجلاس کو کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں گیا ہے کہ کور کمانڈرز اجلاس میں جمہوریت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سیاسی صوتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طاقت کا استعمال مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا لہٰذا وقت ضائع کیے بغیر اور عدم تشدد کے ساتھ بحران کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں اعادہ کیا گیا کہ فوج اب بھی ریاست کے تحفظ کی خاطر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس سے پہلے اتوار کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں گیا تھا کہ کور کمانڈرز کا اجلاس پیر کی بجائے آج یعنی اتوار کی شام ہی کو طلب کر لیا گیا ہے۔

اتوار کو آئی ایس پر آر کی جانب سے پہلے بیان جاری ہوا تھا کہ کور کمانڈز کا اجلاس پیر کو منعقد ہونا ہے تاہم اس کے کچھ دیر بعد ہی آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک اور بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ اجلاس اب پیر کی بجائے اتوار کی شام کو ہوگا۔

شام کے وقت اجلاس شروع ہونے کی اطلاعات ملی تھیں اور رات تقریباً 10 بجے فوج کی جانب سے کور کمانڈز اجلاس کے فیصلے کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا گیا۔

اس وقت اسلام آباد کے ریڈ زون کی سکیورٹی اس وقت فوج کے پاس ہے اور شاہراہ دستور پر تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کا پولیس سے تصادم گذشتہ رات سے جاری ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کو رات گئے جنرل راحیل شریف نے عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری اور تحریک انصاف کے رہنما عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات سے پہلے جمعرات کو ہی جنرل راحیل کی ملاقات وزیراعطم نواز شریف سے ہوئی تھی۔

طاہر القادری نے فوج کے سربراہ سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ حکومت نے سیاسی معاملات میں جنرل راحیل کو ’ثالث اور ضامن‘ بنا دیا ہے جبکہ اس سے اگلے روز وزیراعظم نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری نے آرمی چیف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

اس بیان کے چند گھنٹوں بعد فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کو ’سہولت کار‘ کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

اتوار کو ہی پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے ایک نیوز کانفرنس میں یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ’ہم مارشل لا سے زیادہ دور نہیں۔‘ وہ پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے مظاہرین کی وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب مارچ کے حق میں نہیں تھے۔

اسی بارے میں