لاہور، کراچی، پشاور میں دھرنے اور احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی میں اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کے ساتھ یک جہتی کے لیے مظاہرے کیے گئے ہیں

اسلام آباد کے ریڈ زون میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں پر شیلنگ اور تشدد کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں اتوار کو ہڑتال ہوئی اور یومِ سوگ منایا گیا۔

کراچی

کراچی میں اتوار کو معمولات زندگی معطل رہے۔ اسلام آباد میں شیلنگ اور تشدد کے خلاف تحریک انصاف نے ہڑتال، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے یوم سوگ کا اعلان کیا تھا۔

کراچی میں اتوار کو اکثر کاروباری اور تجارتی مراکز بند رہتے ہیں جبکہ ہڑتال اور یوم سوگ کی اپیل کے باعث سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل جبکہ پیٹرول پمپ بھی بند رہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے خبر دی ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے سلطان آباد میں تمیز الدین روڈ پر دھرنا دیا گیا ہے، جبکہ مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے نمائش چورنگی پر دھرنے کی وجہ سے ایم اے جناح روڈ کے ایک بڑے حصے کو سکیورٹی کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔

لاہور

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پنجاب اسمبلی، وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور سول سیکریٹریٹ سمیت اہم سرکاری عمارتوں کو کنٹینر لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔

ان عمارتوں کے اردگرد پولیس کے مسلح دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

تحریک انصاف کے ضلعی صدر عبدالعلیم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو پورے شہر میں دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

مال روڈ پر نوے شاہراہ اور گورنر ہاؤس جانے والے راستے جزوی طور بند کر دی گئی۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق جاتی عمرہ رائے ونڈ روڈ پر وزیر اعظم ہاؤس کے گھیراؤ کی اطلاع پر پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

شہر کے اہم چوراہوں اور بازاروں میں بھی پولیس تعینات کی جا رہی ہے اور کنٹینر پکڑ پکڑ کر مختلف مقامات پر پہنچائے جا رہے ہیں۔

شہر کے تمام داخلی راستوں پر پولیس کے ناکے لگائے گئے ہیں اور لوگوں کو تلاشی لے کر ہی آگے جانے دیا جا رہا ہے۔

پشاور

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے گورنر ہاؤس کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ہے۔

گورنر ہاؤس کے قریب سڑک پر ٹائر بھی جلائے گئِے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق یہ احتجاج آج صبح گیارہ بجے شروع کیا گیا اور ابتدا میں مظاہرین کی تعداد اتنی زیادہ نہ تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مظاہرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

پی ٹی آئی کے کارکن چار گھنٹوں سے گورنر ہاؤس کے قریب دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے جماعت کے جھنڈے اور ینرز اٹھا رکھے ہیں۔ اس دھرنے میں رکن قومی اسمبلی انجینیئر حامد الحق اور دیگر مقامی قائدین موجود ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام آْباد میں صحافیوں پر پنجاب پولس کے تشدد کے واقعات کے خلاف پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

پریس کلب کے چیئر مین ناصر حسین نے بتایا کہ مظاہرہ ساڑھے تین بجے شروع ہوگا اوراس مظاہرے میں زیادہ سے زیادہ صحافی شرکت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ صحافیوں پر تشدد کے واقعے کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں