پروفیسر اجمل کے بدلے میں تین طالبان رہا ہوئے: ٹی ٹی پی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پروفیسر اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کو سات ستمبر سنہ 2010 کو طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کی رہائی کے بدلے میں ان کے تین ساتھیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہداللہ شاہد نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پروفیسر اجمل کے بدلے میں رہا ہونے والے یہ تینوں افراد تحریک طالبان حلقہ نوشہرہ، صوابی اور چارسدہ کے اہم کارکن ہیں۔

طالبان نے اس سلسلے میں کالعدم تنظیم کے امیر فضل اللہ کے ایک آڈیو وڈیو پیغام سمیت تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

واضح رہے کہ 28 اگست کو عسکری ذرائع نے کہا تھا کہ پروفیسر اجمل خان کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کو چار سال قبل پشاور میں گھر سے دفتر جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔ عسکری ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز گذشتہ چار سال سے مغوی وائس چانسلر کی تلاش میں تھیں اور بالآخر انھیں بازیاب کرا لیا گیا۔

پروفیسر اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کو سات ستمبر سنہ 2010 کو طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے۔

اجمل خان کے اغوا کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی اور ان کی بازیابی کے بدلے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اجمل خان کے ہمراہ ان کے ڈرائیور کو بھی اغوا کیا گیا تھا جسے گذشتہ سال بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

گذشتہ چار سال کے عرصے کے دوران اجمل خان کے پانچ کے قریب ویڈیو پیغامات جاری کیے گئے جن میں انھوں نے بار بار اپنی خرابیِ صحت کا ذکر کیا تھا۔

اسی بارے میں