’اسلام آباد میں فارن مشنز پانچ دن کے لیے بند ہو گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر کیے جانے والے حملے کی بھی مذمت کی

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اویس لغاری نے کہا کہ دو جماعتوں کے دھرنوں کی وجہ سے آج اسلام آباد کے ریڈزون میں واقع فارن مشنز پانچ دن کے لیے بند ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کا پوری دنیا سے سفارتی رابطہ منقطع ہوگیا۔

انھوں نے یہ بات پیر کی شام کو ہونے والی قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کہی۔

اویس لغاری نے الزام لگیا کہ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے کارکنوں نے کینٹین میں داخل ہوکر وہاں سے سموسے اور کیلے چرا کرکھا لیے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر کیے جانے والے حملے کی بھی مذمت کی۔

ارکان کے مطابق پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہوکرتھوڑ پھوڑ کی اور زبردستی پی ٹی وی کی براہ راست جاری نیوز ٹرانسمیٹرکو بند کروایا جبکہ ڈیوٹی پر موجود خواتین عملے کو خوف کی عالم میں جان بچانے کے لیے مسجد میں پناہ لینی پڑی۔

قبل ازین اجلاس کے دوران صحافیوں نے گذشتہ روز پولیس کی جانب سے رپورٹروں اور فوٹوگرافر پر تشدد اور پی ٹی وی کی عمارت میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے داخلے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

بعد میں وفاقی وزیر آفتاب شیخ نے پریس روم میں آکر یقین دہانی کرائی کہ صحافیوں پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

اس دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اضغر نےکہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کسی صورت میں مستعفی نہیں ہونگے کیونکہ وہ 2013 کے انتخابات میں واضع اکثریت حاصل کرنے کے بعد وزاعظم منتخب ہوئے ہیں۔

انھوں نے فوج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت عمران خان اور طاہرالقادری ایک ادارے کوموجودہ صورتحال میں ملوث کرنےکی کوشش کر رہے ہیں جوکہ جمہوریت کے خلاف اقدام ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کبھی ایک روزہ توکبھی پانچ روزہ کرکٹ میچ بتا کر کہتا ہے کہ تھڑڈ ایمپائر انگلی اٹھانے والا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ لوگ جمہوریت کے نام پر ملک اور عوام کےساتھ مذاق کر رہے ہیں۔

خیبرپختونخواسے تحریکِ انصاف کے دو ارکان محترمہ مسرت احمد زیب اور ناصرخٹک نے پی ٹی آئی کے طرف سے اسمبلی سیکریٹریٹ میں استعفے جمع کرانے کے بعد پہلی بار قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے رکن ناصر خٹک نے حکومت کو تجویز دی کہ بندوق کے زور پر تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات ہرگز نہ کیے جائیں کیونکہ اس طرح کے مذاکرات کے مستقبل میں خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

اجلاس میں ارکان کی تعداد سے100کم تھی کیونکہ ایم کیو ایم کے تمام ارکان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی جبکہ سیدخورشید شاہ سمیت پیپلز پارٹی کی اکثریت ایوان میں موجود نہیں تھی۔ اس کے علاوہ خود وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اہم وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان حسب روایت پیر کو بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

علاوہ ازیں صدرِ مملکت ممنون حسین نے منگل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ملک کی موجودہ کشیدہ سیاسی صورتحال پر بحث کیاجائےگا۔

مشترکہ اجلاس بلانےکی تجویز حزبِ اختلاف کے لیڈر سیدخورشید شاہ نے وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف سے چند دن قبل ہونے والی ملاقات کے دوران پیش کی تھی۔

اسی بارے میں