’عبادت گاہ پہنچا تو ہر طرف زخمی تھے‘

Image caption کراچی کے ایک ہپستال میں زیرِ علاج حکیم بلوچ کو ایک گولی لگی جو جسم کے آر پار ہو چکی ہے

ندیم بلوچ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ان کی کوشش تھی کہ وہ زخمیوں کو جلد سے جلد آواران کے ضلعی ہپستال پہنچائیں جس میں وہ بالآخر کامیاب ہوگئے۔

بلوچستان کے ضلعے آواران کے علاقے ترتیج کے قریب واقع ذکری برادری کی عبادت گاہ پر 29 اگست کو مسلح افراد کی فائرنگ میں آٹھ افراد ہلاک اور سات سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

ندیم بلوچ بتاتے ہیں کہ وہ اپنےگاؤں ترتیج میں ہی موجود تھے جب انھیں معلوم ہوا کہ عبادت گاہ میں کوئی واقعہ پیش آیا جس کے بعد وہ اپنی پک اپ گاڑی لیکر روانہ ہوگئے۔

’میں جب عبادت گاہ پہنچا تو ہر طرف لاشیں اور زخمی تھے، وہاں موجود خواتین نے بتایا کہ انھوں نے دو نقاب پوش مسلح افراد کو مردوں کے کمرے میں جاتے ہوئے دیکھا جنھوں نے داخل ہوتے ہی فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔‘

ندیم بلوچ کے مطابق انھوں نے زخمیوں کو پک اپ میں ڈالا اور آواران ہپستال کے لیے روانہ ہوئے۔ شہر میں داخل ہونے سے قبل چیک پوسٹ پر ایف سی نے روک لیا۔

انھوں نے کہا ’میں نے ایف سی کو بتایا کہ ان لوگوں کو گولیاں لگی ہیں اور اگر یہاں رکے تو مر جائیں گے جس کے بعد ایف سی نے جانے دیا۔‘

ذکری برادری کے مرد اور خواتین ہر جمعے کی شب عبادت کے لیے یہاں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اس واقعے میں چار بچوں کے والد نور بخش گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک برسٹ چلنے کی آواز آئی جس کے بعد انھیں گولیاں لگیں اور وہ زمین پر گر گئے۔

کراچی کے ایک ہپستال میں زیرِ علاج حکیم بلوچ کو ایک گولی لگی جو جسم کے آر پار ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی کسی کا کوئی کام نہیں بگاڑا، ان کی کسی سے ساتھ کوئی دشمنی بھی نہیں معلوم نہیں کہ یہ حملہ کس نے کیا؟

Image caption ذکری کمیونٹی کے مرد اور خواتین ہر جمعے کی شب عبادت کے لیے یہاں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اس واقعے میں چار بچوں کے والد نور بخش گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے

ندیم بلوچ نے بتایا کہ انھوں نے آٹھ زخمیوں کو آواران ہپستال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ان کا علاج یہاں نہیں ہوگا اس لیے انھیں فوری کراچی لے جائیں۔

ہم زخمیوں کو کراچی لا رہے تھے کہ اس دوران ایک شخص زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال آواران میں زلزلے کے بعد ضلعی ہسپتال میں تمام سہولیات فراہم کرنے کے اعلانات کیے گئے تھے لیکن ندیم بلوچ کے مطابق ابھی تک وہاں ایکسرے پلانٹ بحال نہیں ہو سکا ہے۔

ذکری کمیونٹی کو کس نے نشانہ بنایا؟ اس بارے میں آواران کے پولیس سربراہ عبداللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ واقعہ مذہبی شدت پسندی ہے، جس طرح کی کارروائی کی گئی ہے اس سے تو یہ ہی اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ آور تربیت یافتہ تھے کیونکہ انھوں نے کم وقت میں زیادہ نقصان پہنچایا۔

ان کا کہنا تھا ’واقعہ میں کون سا گروہ ملوث ہے؟ اس کی تحقیقات جاری ہے، ملک کی صورتِ حال کو مدِنظر رکھیں تو تحریک طالبان، لشکر جھنگوی یا جنداللہ جیسے گروہ موجود ہیں جو اس طرح کی کارروائی کرتے ہیں۔‘

مکران کے کئی علاقوں میں لشکرِ خراساں کی نام سے وال چاکنگ کی گئی ہے جس میں ذکری فرقے کےلوگوں کو دھمکایاگیا ہے جبکہ عراق اور شام میں موجود شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی حمایت کی گئی ہے۔

ڈی پی او آواران عبداللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں ایسی کوئی وال چاکنگ موجود نہیں تاہم اگر بی ایریا میں کی گئی ہے تو انھیں اس کا علم نہیں۔

بلوچستان میں جاری مسلح جدوجہد میں شامل کچھ رہنماؤں کا تعلق بھی مکران سے ہے۔

گذشتہ چند سالوں سے آواران، تربت، پنجگور اور خضدار میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں