پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے: شاہ محمود

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہ محمود قریشی تحریکِ انصاف کے چند رہنماؤں کے ساتھ پارلیمان کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے آئے تقریر کی اور چلے گئے

پاکستان کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اپنی جماعت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان اور سرکاری نشریاتی ادارے پر حملہ کرنے والے کارکنوں کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں۔

انھوں نے پارلیمان کا آگاہ کیا ’میں نے خود عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے درخواست کی کہ کارکن تشدد کی راہ نہ اپنائے مگر وہ میرے پابند نہیں ہیں اور میں کارکن ہوں، صرف گزارش ہی کر سکتا تھا۔‘

اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف لیڈر خورشید شاہ نے شاہ محمود قریشی کے بیان کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر میں یہ بیان اہمیت کا حامل ہو گا۔‘

شاہ محمود قریشی نے ایوان کو بتایا کہ ’ہم بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم سیاستدان ہیں زبردستی بات نہیں منوا سکتے اس لیے بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں تحریکِ انصاف کے ارکان کے استعفی پیش نہیں کیے جس پر اراکینِ پارلیمان نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے پارلیمان کو آگاہ کیا کہ ان کی جماعت کے مطالبات سے متعلق پیپر ورک تیار ہے جو وہ مذاکرات کے لیے تشکیل دیے گئے سیاسی جرگے کو پیش کریں گے۔

انھوں نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمان کا طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس پارلیمان کو جلانے نہیں بلکہ اسے بچانے آئے ہیں۔یہ پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے۔‘

ایک دن قبل ہی اسلام آباد میں جاری حکومت مخالف دھرنوں کے دوران طاہر القادری اور عمران خان نے الحاق کا اعلان کیا تاہم مشترکہ اجلاس کے دورن آج شاہ محمدد قریشی نے دھرنوں کے دوران تشدد کا الزام عوامی تحریک پر دھرا۔

اس پر متعدد اراکین پارلیمان نے شیم شیم کی آوازیں لگائیں اور شاہ محمدد قریشی کی تقریر کے دوران کئی مواقع ایسے تھے جب پر مسلم لیگ ن کے بعض رہنماؤں نے شور شرابا کیا جس پر قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے ایوان کو صبر وتحمل سے شاہ محمد قریشی کی بات سننے کے لیے کہا بے شک وہ سچ ہے یا جھوٹ ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر کے دوران فوج کی جانب سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’تاریح گواہ ہے کہ جب سہولت کار سے متعلق باتیں ہو رہی تھیں تو مسلم لیگ ن کے وفد نے کہاکہ وہاں مل لیتے ہیں تو فلاں جگہ مل لیتے ہیں مگر ہماری جماعت نے کہا نہیں ہم نیوٹرل اور سیاسی مقام پر ملیں گے۔‘

جب شاہ محمود قریشی نے ایوان کو پولیس کی جانب سے کارکنوں پر تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’خون کی ہولی‘ سے تشبیہ دی تو اس پر بیشتر اراکین مشتعل ہو گئے اور ایوان میں شیم شیم کی آوازیں گونج اٹھیں اور ماحول اتنا گرم ہو گیا کہ سپیکر کو مداخلت کرنی پڑی ۔

لگ بھگ ایک گھنٹے کی تقریر میں شاہ محمود قریشی کی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے بھی اختلافی بات ہوئی مگر اس پر جلد قابو پا لیا گیا۔

شاہ محمود قریشی کی تقریر کے اختتام پر سپیکر قومی اسمبلی نے انہیں اپنے چیمبر میں آنے کی ہدایت کی تاکہ استعفوں سے متعلق بات چیت ہو سکے۔ تاہم حکومتی مذاکرات کے لیے انہیں اسمبلی سے فوراً روانہ ہونا پڑا۔

پارلیمان سے ان کی روانگی پر عوامی نشینل پارٹی اور جمعت علمائے اسلام فضل الرحمٰن کے اراکین مشتعل ہو گئے اور سپیکر پر دباؤ ڈالا کہ ان سے استعفے کیوں نہیں لیے گئے جبکہ پیلزپارٹی اور جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے مسئلے کے حل کی جانب بڑھا جائے۔

اس سلسلے میں آفتاب شیرپاؤ نے ایوان میں کہا کہ ’جس دن مذاکرات شروع ہوئے اسی دن احتجاجیوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، اگلے دن پی ٹی وی پر، یہ ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔ آپ نے ان کو بولنے کی اجازت دی تو ٹھیک ہے استفعے دینے والا اپنا نظریہ دے کر استفعیٰ تو دے کر جائیں یہ بھی شاہ محمود قریشی نے نہیں کیا۔‘

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے پختوخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’ہم ایک قراداد پاس کرانا چاہتے ہے جس میں لکھا جائے کہ پی ٹی وی، پارلیمنٹ اور سیکرٹیریٹ پر حملہ کرنا غیر آئینی ہے اور اس پر دستخط شاہ محمود قریشی کے لیے جائیں۔‘

مشترکہ ایوان میں گرما گرم بحث کے بعد اجلاس جمعرات گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں