بادشاہ تو ننگا ہے ابا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اب ہاشمی صاحب 23 برس کے شعلہ بیاں طالبِ علم رہنما بھی نہیں بلکہ 66 برس کے میچور سیاستداں ہیں

ضروری انتباہ

ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جاوید ہاشمی اور از قسمِ ہاشمی دیگر لوگوں سے آئندہ نہایت ہوشیار رہا جاوے۔ان کا بھرپور احترام ضرور کیا جاوے ۔ان کی قربانیوں کا بھی کھل کے اعتراف ہونا چاہیے۔ان کی ضمیر پرستی کی بھی پوری پوری داد دی واجب ہے۔ وہ جلسوں کی گرمائش کے لیے بھی خاصے موزوں ہیں۔ان کی عوام دوست باغیانہ طبیعت کو بھی مشعلِ راہ بنانے کا عہد کیا جاسکتا ہے۔ پر بنامِ خدا کوئی بھی قومی جماعت ( بشمول عوامی نیشنل پارٹی و جمیعت علمائے اسلام ) کہ جسے اپنی دنیا و دین نیز جان و دل عزیز ہو ، جاوید ہاشمی کو بقائمی ہوش و حواس یا بلا ہوش و حواس اپنا مرکزی عہدیدار بنانے سے پرہیز کرے۔ ایسے لوگ چلتے میچ میں عین جب فالو آن قریب ہو وکٹ اکھاڑ کے بھاگ جاتے ہیں یا پچ کھود ڈالتے ہیں۔

( منجانب ۔ہمدردانِ تحریکِ انصاف پاکستان )

اقبال نے شاید یہ مقطع جاوید ہاشمی جیسوں کے لیے ہی کہا ہے۔

چپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبال

کرتا کوئی اس بندہِ گستاخ کا منہ بند۔

حالانکہ گرگانِ باراں دیدہ نے لاکھ سمجھایا کہ جاوید ہاشمی کو مت لو۔ وہ یس سر الیون میں نہیں چل پائیں گے۔انھیں نہ تو گیم ڈالنے کی تمیز ہے، نہ کرکٹ کا پتہ، نہ میچ فکسنگ کی شد بد اور نہ ہی ڈریسنگ روم کلچر سے واقفیت۔زود رنج آدمی ہیں۔کہیں کبھی کسی بھی میچ میں بات بے بات غضب ناک ہوگئے تو اپنی ہی وکٹ پر بلا نہ دے ماریں۔کہیں جان بوجھ کر آخری اور فیصلہ کن کیچ ہی نہ چھوڑ دیں۔ کسی خفگی کی بنا پر وکٹ چھوڑ کے ہی کھڑے نہ ہوجائیں۔ سامنے والے کو رن آؤٹ ہی نہ کروادیں۔ مانا کہ جاوید ہاشمی ذات کے سید ہیں پر طبیعت میں خانصاحبی دھرمٹ سے کوٹی گئی ہے۔ایک پارٹی میں ایک وقت میں ایک ہی خان صاحب بہت ہیں۔

مگر کپتان خان کا ایک ہی جواب تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ میں نے میاں داد جیسے لا ابالیے کی ایک نہیں چلنے دی۔ قاسم عمر کے ٹیسٹ کیرئر پر اس کی لمبی زبان کے سبب بریک لگوا دی۔ یونس احمد کے لیے وکٹ تنگ کردی۔گرم مرطوب جسٹس وجیہہ الدین کو معتدل مزاج بنا دیا۔ حامد خان جیسے آتش گیر مادے پر ٹھنڈی بالٹی ڈال دی تو جاوید ہاشمی بھی کانِ نمک میں نمک ہو ہی جائیں گے۔ میں بھی باغی وہ بھی باغی۔ خوب گزرے گی دونوں کی۔ ویسے بھی ن لیگ میں وہ ہرگز جانا پسند نہیں کریں گے۔ پیپلز پارٹی سے ان کا ہمیشہ نظریاتی مسئلہ رہا ہے۔ جماعتِ اسلامی کا ڈھانچہ، رینج اور ڈسپلن ایسا ہے کہ ہاشمی جیسوں کا دم گھٹ جاتا ہے۔

اب ہاشمی صاحب 23 برس کے شعلہ بیاں طالبِ علم رہنما بھی نہیں بلکہ 66 برس کے میچور سیاستداں ہیں۔ عمر کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ صحت بھی مزید مہم جوئی کی اجازت نہیں دیتی۔ان سب عوامل کی بنا پر ہاشمی آخری دم تک تحریکِ انصاف میں ہی باعزت زندگی گزارنا پسند کریں گے۔ان میں اچھی بات یہ بھی ہے کہ ایک سیدھے کھرے شخص کی طرح جتنی جلد ناراض ہوتے ہیں اتنی جلدی من بھی جاتے ہیں۔اس لیے فکر نہ کرو میں سنبھال لوں گا۔اپنے کپتان پر پہلے کی طرح بھروسہ رکھو۔

جاوید ہاشمی کے بارے میں کپتان کی ریڈنگ بہت صحیع تھی۔ پر ایک چوک ہوگئی، جیسا کہ روایتی کہانیوں میں ہیرو سے اکثر ہو ہی جاتی ہے۔ کپتان خان ہاشمی کی اسکیننگ رپورٹ میں وہ طفلِ آزاد منش نہیں دیکھ پائے جو کہیں بھی موقع محل کی پرواہ کیے بغیر کسی بھی خلافِ طبیعت بات پر پسر جاتا ہے۔ وہ بچہ جو جھوٹ بولنا بھی چاہے تو فوراً پکڑا جاتا ہے۔ وہ بچہ جو غیر سیاسی ہوتا ہے۔ وہ بچہ جو بادشاہ کے لباس کی تعریف میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے والے جی حضوری ہجوم کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نتائج و مصلحت سے آزاد یکدم چیخ پڑتا ہے، بادشاہ کے تن پر تو کپڑے ہی نہیں ۔بادشاہ تو ننگا ہے ابا۔۔۔

اسی بارے میں