وزیرستان کے راستے بند، لوگوں کو مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption علاقے میں ادویات کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے نتیجے میں چند تحصیلوں میں بدستور آمدورفت کے راستے بند ہے۔

لوگوں کے مطابق راستوں کی بندش کی وجہ سے علاقے میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔

دوسلی تحصیل سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی ملک میر کلام خان نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ شمالی وزیرستان کے تحصیل گڑیوم، دوسلی، رزمک، شواء اور سپین وام میں آپریشن نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہاں اکثریت آبادی بدستور مقیم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان تحصیلوں کے تمام راستے آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے گذشتہ دو ماہ سے بند ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدو رفت بھی معطل ہے جبکہ لوگ بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتے۔

انھوں نے بتایا کہ راستوں کی بندش کے باعث بیشتر علاقوں میں لوگوں کو خوراک اور ادوایات کی شدت قلت کا سامنا ہے۔

میرکلام خان کے مطابق ’حکومت نے ہر تحصیل میں مخصوص افراد کو اجازت نامے جاری کیے ہیں جس کے تحت صرف وہی افراد ہی باہر سے کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر چیزیں لا سکتے ہیں۔ ہر ہفتے یا 10دنوں کے بعد علاقے میں چند ٹرک راشن، اور دیگر خوراک پہنچا جاتا ہے لیکن یہ اشیاء پہنچتے ہی چند گھنٹوں کے اندر ختم ہو جاتی ہیں۔‘

قبائلی ملک نے مزید بتایا کہ علاقے میں اکثر اوقات کرفیو بھی نافذ رہتا ہے جس کی وجہ سے مقامی باشندے آزادانہ نقل و حمل نہیں کر سکتے اور نہ دور دراز علاقوں میں جاکر خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ دوسلی تحصیل میں پچھلے دو ماہ سے بجلی کی ترسیل بھی بند ہے جس کے باعث علاقے میں پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے جبکہ لوگوں کو دور دراز کے پہاڑی علاقوں سے پینے کا پانی خچروں پر لانا پڑتا ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے شکتوئی میں بھی راستوں کی بندش کے باعث اردگرد واقع تمام علاقوں کے افراد اپنے مکانات میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

Image caption فوج نے آپریشن ضرب عضب میں نو سو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے

تحصیل گڑیوم کے ایک قبائلی رہنما بھٹو خان نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ سے علاقے میں ایسی صورتحال ہے کہ لوگ کھانے پینے کی اشیاء کے لیے ترس رہے ہیں۔

’علاقے میں کم مقدار میں خوراک اور ادویات پہنچ رہی ہیں جبکہ آبادی زیادہ ہے جس کی وجہ سے قلت پیدا ہو رہی ہے۔زیادہ تر آبادی دور دراز پہاڑی علاقوں میں مقیم ہیں اور جب وہ راشن لینے آتے ہیں تو اس سے پہلے ہی ساری چیزیں ختم ہو چکی ہوتی ہے جس سے لوگ مایوسی کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔‘

علاقے کے ایک اور باشندے محسن خان نے کہا کہ علاقے کے تمام ہسپتال غیر اعلانیہ طور پر بند ہیں جبکہ ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف بھی موجود نہیں۔

انھوں نے کہا کہ دوائیاں ہسپتالوں میں دستیاب ہیں اور نہ دکانوں میں جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ تقریباً ڈھائی ماہ قبل فوج کی طرف سے شالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔ ابتداء میں یہ آپریشن میرانشاہ اور میرعلی کے تحصیلوں تک محدود رکھا گیا لیکن رفتہ رفتہ اس کا دائرہ دیگر علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ تاہم ایجنسی کے چند علاقوں رزمک، گڑیوم، شواء اور سپین وام میں بدستور کارروائیاں شروع نہیں کی جا سکی ہیں۔

اسی بارے میں