ضربِ عضب: اب تک 910 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب ماہ جون میں شروع کیا تھا

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے اور اس کے دوران اب تک 910 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

پناہ گزینوں کو سکول خالی کرنے کا حکم

ادارے کی طرف سے بدھ کی صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کھجوری، میرعلی، میران شاہ، دتہ خیل روڈ اور گھریوم جھالر روڈ کو محفوظ بنایا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ فوج نے میرعلی، دتہ خیل، بویا اور دیگان قصبوں کو بھی عسکریت پسندوں سے خالی کروا لیا ہے۔

بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 27 بم ساز فیکٹریاں، اور ایک ایک راکٹ اور ایمونیشن فیکٹری بھی تباہ کر دی گئی ہے، جب کہ عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال مواصلاتی ساز و سامان، اسلحہ اور گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

آئی ایس پی آر نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اب تک تمام ملک میں 82 فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ 269 زخمی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئی ایس پی آر کے مطابق امدادی کارروائیوں کے تحت 97 ہزار سے زیادہ پناہ گزین خاندانوں میں خوراک تقیسم کی گئی ہے

آپریشن ضرب عضب میں سکیورٹی فورسز نے کیا اہداف حاصل کیے اس بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ اس علاقے تک آزاد میڈیا سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو رسائی حاصل نہیں ہے۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے اب تک صرف ایک بار ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو میر علی کا دورہ کروایا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان سے بےگھر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں 97 ہزار سے زیادہ پناہ گزین خاندانوں میں خوراک تقیسم کی گئی ہے۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی وزیرستان میں جو علاقے عسکریت پسند سے پاک کر دیے گئے ہیں وہاں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو کب تک واپس اپنے گھروں کو جانے کی اجازت ملے گی۔

اسی بارے میں