دیہاڑی والوں کی چاندی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گول گنڈے والے کا کاروبار بھی خوب زوروں پر ہے

صوبہ پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کا نوجوان محمد عمران بھٹی عوامی تحریک کے قافلے میں کام کاج چھوڑ کر لاہور سے اسلام آباد آیا۔

دو ہفتوں تک سڑکوں پر بےکار بیٹھے رہنے کے دوران اس نے سوچا کہ کیوں نہ چار پیسے ہی بنا لے۔ ہاتھ میں رقم نہیں تھی، لہٰذا اپنا موبائل فروخت کر کے چائے کے برتن اور گیس کا چولھا خرید لیا۔

اب قومی اسمبلی کے سامنے بیٹھا 20 روپے فی کپ بیچتا ہے اور دن کے اچھے خاصے پیسے بنا لیتا ہے۔

محمد عمران اپنے موبائل چائے خانے کے ساتھ بیٹھا بتانے لگا کہ ’اللہ تعالی نے میرا جو رزق یہاں میرے لیے لکھا تھا وہ اب مل رہا ہے۔ کسی سے مانگ کر کھانے سے بہتر ہے کہ خود کما کر کھائیں۔‘

ہم نے پوچھا کہ ’20 روپے کا کپ مہنگا نہیں ہے؟‘ تو کہنے لگا: ’پلاسٹک کا صرف کپ اڑھائی روپے کا پڑتا ہے پھر دودھ اور چائے بھی مہنگی ہے، اسلام آباد کے دکانداروں نے نرخ بڑھا دیے ہیں۔ دس روپے کی چیز دوگنی قیمت پر دے رہے ہیں۔‘

پارلیمان کے ساتھ شاہراہِ دستور کسی چھوٹے موٹے اتوار بازار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ فروٹ، بھُٹے، گولہ گنڈا، چشمے، پارٹی ٹوپیاں اور نسوار تک دستیاب ہے۔

ساتھ میں موٹر سائیکل پر آئیس کریم کا بکس رکھے شفیق احمد بھی گاہکوں کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ وہ خود ہی بتانے لگے کہ ایک دن میں وہ 27 ہزار روپے تک کما چکے ہیں: ’دو مرتبہ بکس خالی ہوا تو جا کر دوبارہ آئس کریم لے آیا ہوں۔‘

اس کے لیے حیرت کی بات یہ تھی کہ مظاہرین دس پندرہ روپے والی آئس کریم نہیں بلکہ مہنگی 40، 50 روپے والی زیادہ مانگ رہے ہیں۔

پوچھا کہ ’لاٹھی چارج کا کتنا خطرہ ہے؟‘ تو کہنے لگا: ’اسی لیے تو موٹر سائیکل استعمال کر رہے ہیں۔ سائیکلیں چھوڑ دی ہیں، لاٹھی چلے تو بس ایک کک مارنی پڑتی ہے۔‘

پارلیمان کا جنگلہ توڑ کر اندر داخل ہونے والے ہزاروں مظاہرین پر مبنی خیمہ بستی غیرمعمولی منظر پیش کرتی ہے۔ شاید ہی کسی کے خواب و خیال میں ہوگا کہ پارلیمان کے سبزہ زار پر عارضی رہائش کے علاوہ خواتین کے ان سلے کپڑوں اور پلاسٹک کے جوتوں کا سٹال بھی قائم ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کون سوچ سکتا تھا کہ شاہراہِ دستور پر خرید و فروخت ہو رہی ہو گی؟

خواتین اس سٹال میں بڑی دلچسپی لے رہی تھیں کہ اچانک عوامی تحریک کے ایک اہلکار نے چیخنا شروع کر دیا: ’ارے کیوں شیعہ سنی لڑائی کروانا چاہتے ہو؟ کیوں توہین کے مرتکب ہو رہے ہو؟ اٹھاؤ اپنے جوتے اور چلے جاؤ یہاں سے۔‘ وجہ یہ کہ ان جوتوں کے اندر ’زارا‘ لکھا ہوا تھا۔ سٹال مالک کے مالک نے بات بڑھنے سے پہلے ہی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ جوتے لپیٹ کر ایک طرف کر دیے۔

نوجوان صرف عمران خان کے دھرنے میں نہیں ہیں بلکہ قادری صاحب کے بھی ساتھ اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ ایسی افواہیں ہیں کہ عوامی تحریک ان کارکنوں کو روزانہ کا خرچہ دیتی ہے۔ وہیں رحیم یار خان کے کمزور سے الیکٹریشن جلیل احمد سے بات ہوئی۔ معلوم نہیں وہ نیند میں تھے یا نشے میں، لیکن انھوں نے کسی خرچے کے ملنے کی تردید کی اور بتایا کہ صرف کھانا، جوس اور پانی ملتا ہے: ’باقی خرچہ ہم خود کرتے ہیں۔‘

پوچھا کون کون آیا ہے تو بتایا کہ وہ اپنے والد اور ماموں کے ساتھ آئے ہیں اور عورتیں اپنے گھروں میں ہیں۔ دریافت کیا کہ دیہاڑیاں تو خراب ہوئیں گھر کا اور یہاں کا خرچہ کیسے پورا ہوتا ہے؟ کہنے لگا کہ اس کے تین بھائی جدہ میں ہیں جو پیسے بھیجتے ہیں۔ ’معاشی نقصان کی کوئی بات نہیں انقلاب آیا تو غریبوں کا فائدہ تو ہو جائے گا نا؟‘

اس کے علاوہ یہاں دیا جانے والا تین وقت کا کھانا بھی دیگیں تیار کرنے والے کی چاندی کا سبب بن رہا ہے۔ پولیس کے لیے بھی اسلام آباد کی بڑی کمپنی کے چاول مہیا کیے جا رہے ہیں۔ پینے کا پانی اور دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لیے چھتریاں بھی بیچی جا رہی ہیں۔

شاہراہِ دستور پر کوئی دوکان بازار نہیں لہٰذا بازار چل کر یہاں آگیا ہے۔ جب تک دھرنے جاری رہیں گے یہ عارضی بازار بھی منافع بخش رہے گا۔