پاکستانی بچے افغانستان کے سکولوں میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرستان سے بے دخل ہونے والے بچوں کےلیے 80 سکول گلان نامی پناہ گزین کیمپ میں کھولے جائیں

افغانستان کی حکومت نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں سرحد پار کرکے افغان علاقوں میں پناہ لینے والے پاکستانی متاثرین بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’مہاجرین کو افغانستان ہجرت پر آمادہ کرنا مداخلت ہے‘

شمالی وزیرستان کے سرحد سے متصل افغان صوبہ خوست کے گورنر کے ترجمان مباریز زدران نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ بدھ کو خوست میں گورنر عبدالجبار نعیمی کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی متاثرین بچوں کا وقت ضائع ہونے سے بچانے کےلیے انہیں سکولوں میں داخل کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں افغان حکام اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وزیرستان سے بے دخل ہونے والے بچوں کےلیے 80 سکول کھولے جائیں اور اس سلسلے میں کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ان کے مطابق تمام سکول گلان نامی پناہ گزین کیمپ میں کھولے جائیں گے جہاں بیشتر پاکستانی متاثرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مباریز زدران کا مزید کہنا تھا کہ ان سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ تعلیم یافتہ پاکستانی ہوں گے جو اس وقت وزیرستان آپریشن کے باعث نقل مکانی کرکے خوست کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ترجمان کے بقول ان اساتذہ کو افغان حکومت کی طرف سے تنخواہ اور دیگر مراعات بھی حاصل ہوں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ متاثرین بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کا مقصد ان کا قیمتی وقت بچانا ہے جبکہ ان متاثرین کو امداد بھی دی جارہی ہے۔

دریں اثنا افغانستان میں مہاجرین کے لیے قائم ادارے کے چیئرمین انجینیئر گل حبیب شاہ نے کہا ہے کہ اب تک وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کا اندراج کیا گیا ہے جس میں 22ہزار سے زیادہ خاندان شامل ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے کئی خاندانوں نے سرحد پار کرکے افغان علاقوں میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ تاہم جب آپریشن کا آغاز کیا گیا اس کے بعد بھی اطلاعات کے مطابق درجنوں خاندانوں نے بے گھر ہوکر افغان علاقوں کا رخ کیا جو بدستور وہاں مقیم بتائے جاتے ہیں۔

تاہم دوسری طرف پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدا میں چند خاندانوں نے نقل مکانی کرکے افغان صوبہ خوست پناہ ضرور لی تھی لیکن چند ہفتوں کے بعد وہ واپس پاکستان آئے اور یہاں آکر خود کو رجسٹرڈ کروایا۔ ان کے مطابق افغانستان سے واپس آنے والے بیشتر متاثرین نے کرم ایجنسی میں رجسٹریشن کروائی اور بعد میں وہاں سے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوئے۔

اسی بارے میں