پنجاب میں طوفانی بارشیں:29 ہلاک، فوج الرٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بارش کے باعث جگہ جگہ سڑکوں پر پانی کھڑا ہوگیا ہے، اور نشیبی علاقوں میں لوگوں کے گھروں میں بھی پانی داخل ہوچکا ہے

مون سون کی بارشوں نے پاکستان کے مختلف حصوں میں تباہی مچا دی ہے اور صوبہ پنجاب میں بدھ کی سہ پہر سے شروع ہونے والی بارش سے اب تک کم از کم 29 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی سرکاری ٹی وی پی ٹی وی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا ہے کہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں امدادی کاموں کے لیے پاکستان فوج کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پنجاب کے علاقوں سیالکوٹ، ناروال، ہیڈ مرالہ، وزیر آباد اور جلال پور جٹاں میں فوج بھیج دی گئی ہے جبکہ لاہور کے قریب شاہدرہ میں بھی فوج کو امدادی کاررائیوں کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پنجاب کے وسطی علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 36 سے 48 گھنٹوں تک جاری رہے گا۔

موسلادھار بارش کے باعث لاہور سمیت کئی شہروں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی وقفے وقفے سے شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق راوالپنڈی کے نالہ لئی میں طغیانی ہے اور پانی کی سطح 15 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ راوالپنڈی کی انتظامیہ نے نالہ لئی کے قریب رہنے والوں کو الرٹ کر دیا ہے۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک اہلکار نے ہماری نامہ نگار شمائلہ جعفری سے بات کرتے ہوئے صوبے بھر میں 29 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

لاہور کے ریسکیو حکام کے مطابق گذشتہ شام شروع ہونے والی بارش سے مزنگ، جوہر ٹاؤن، جی او آر ٹو، سبزہ زار اور گارڈن ٹاؤن کے علاقوں میں گھروں کی چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ سیالکوٹ، فیصل آباد،گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں فیکٹری اور مکانوں کی چھتیں گرنے سے 17 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

بارش کے باعث جگہ جگہ سڑکوں پر پانی کھڑا ہوگیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں لوگوں کے گھروں میں بھی پانی داخل ہوچکا ہے۔

واسا کاعملہ لاہور کے متاثرہ علاقوں میں موجود تو ہے لیکن ہاتھوں سے پانی نکالنا ان کے بس سے باہر ہے۔ شہر کی بہت سی نشیبی آبادیوں میں مشینری کا پہنچنا مشکل ہے جبکہ کئی علاقوں میں پانی نکالنے والی واسا کی گاڑیاں بھی خراب دکھائی دیں۔

صبح کئی گھنٹے تک لاہور میں ٹریفک جام رہا۔ موسلادھار بارشوں کے باعث سکولوں اور دفاتر میں حاضری معمول سے کم رہی۔ جو لوگ گھروں سے نکلنے بھی، انھیں جگہ جگہ بارش کا پانی کھڑا ہونے کے باعث کئی گھنٹے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محکمۂ موسمیات کے مطابق پنجاب کے اکثر علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا یہ سلسلہ اگلے 48 گھنٹوں تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا

بارش کے باعث بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔ لاہور میں کئی علاقوں کے فیڈر ٹرپ کر گئے جس سے لوگوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔

ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں بارش کے باعث مٹی کا تودہ گرنے سے پاکستانی فوج کے تین اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے ادارے کی جانب سے کئی اگلے 48 گھنٹوں کے دوران ستلج، راوی، چناب، جہلم اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل حضرت میر کا کہنا ہے کہ خاص طور پر لاہور،گوجرانوالہ، اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں ان بارشوں سے طغیانی آ سکتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم دریائے چناب میں سیلاب کی وارننگز جاری کر چکے ہیں۔ لیکن دریائے راوی میں بھی اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے جس سے شاہدرہ سے مریدکے کے درمیان کی آبادیاں خاص طور پر متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔‘

محکمۂ موسمیات کے مطابق لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ساہیوال، گوجرانوالہ اور بہاولپور ڈویژنوں میں موسلادھار بارشوں کا یہ سلسلہ اگلے 48 گھنٹوں تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے صوبے میں بارشوں سے ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کو ایک ایک لاکھ معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ امدادی کارروائیوں میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

جبکہ اس کے بعد 13 سے 14 ستمبر کے درمیان بھی ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان ہے جس سے گرمی کی شدت میں واضح کمی ہوجائے گی۔

اسی بارے میں