طالبان کمانڈر عمر خالد خراسانی تنظیم و عہدے سے معزول

تصویر کے کاپی رائٹ Hasan Abdullah
Image caption احسان اللہ احسان کا دعوی تھا کہ وہ اصل تحریک طالبان ہیں اسی لیے اس کا نام تحریک طالبان پاکستان (احرار الہند) رکھا ہے

پاکستان میں شدت پسندوں کی غیرقانونی تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے مہمند ایجنسی کے سربراہ کمانڈر عبدالولی عرف عمر خالد خراسانی کو ’امارت اسلامی افغانستان‘ کے امور میں مسلسل مداخلت، جنود خراسان اور احرار الہند جیسی مشکوک تنظیموں کے ساتھ روابط اور الحاق کی بنا پر معزول کر دیا ہے۔

تحریک کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشاورت کے بعد نئے سربراہ کا اعلان کر دیں گے۔

تحریک طالبان کے بیان میں کہا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان ’امارت اسلامی افغانستان‘ کو اپنا مرکز اور ملا محمد عمر مجاہد کو اپنا شرعی امیر سمجھتی ہے اور اپنے جملہ امور اور مسائل کو اسلامی اصولوں پر مبنی شورائی نظام کے ذریعے حل کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارے پاس اسلام کی روشن اصولوں پر مبنی ایک بہترین اصلاحی پالیسی بھی موجود ہے جس پر ہم مخلص اور باصلاحیت علما کرام اور جہادی امراء کی رہنمائی میں ہمیشہ عمل پیرا رہتے ہیں۔‘

طالبان میں قیادت کی رسا کشی

مہمند ایجنسی طالبان نے گذشتہ دنوں احرار الہند نامی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا تھا اور قاسم خراسانی کو اس کا امیر مقرر کیا تھا۔ اس نئی تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان کا دعویٰ تھا کہ وہ اصل تحریک طالبان ہیں اسی لیے اس کا نام تحریک طالبان پاکستان (احرار الہند) رکھا ہے۔ اس کا مقصد انھوں نے تنظیم کے اندر تقسیم اور مایوسی کو روکنا بتایا تھا۔

آج تازہ بیان سے تنظیم کے اندر قیادت کے لیے جاری رسی کشی نے مزید ابتر صورت اختیار کر لی ہے۔

شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ ’مسلمانوں اور مجاہدین‘ کے مابین بعض معاملات پر اختلاف رائےاور مسائل کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے تاہم ان کے شرعی حل سے انحراف اور ہٹ دھرمی نہایت خطرناک ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے اجتماعی نقصان پر منتج ہوتا ہے۔

’تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما کمانڈر عبدالولی خراسانی نے تحریک طالبان کی پالیسی کی واضح مخالفت کرتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان کے معاملات میں مسلسل مداخلت کر کے امت مسلمہ کی نظروں میں تحریک طالبان کو مشکوک بنانے کی کو شش جاری رکھی بلکہ بعض دفعہ تو نوبت باقاعدہ ٹکراؤ تک بھی جا پہنچی۔

ایسے ہی ایک معاملے میں امارت اسلامی کے خلاف باقاعدہ ایک بیان جاری کرنے کی بنا پر تحریک نے مہمند سے تعلق رکھنے والے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو معزول کر دیا تھا،اس کے علاوہ تحریک طالبان کے بعض حلقوں کو اپنے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کی بنا پربھی ان سے سخت شکوہ تھا۔ تحریک کی مرکزی شوری کو بھی بعض اہم معاملات میں ان کے مبہم اور غیر واضح کردار پر شدید تحفظات تھے۔‘

شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ انھوں نے مولانا فضل اللہ کی داخلی اصلاح کی اعلیٰ کوششوں سے فرار اختیار کرتے ہوئے اپنے حلقے کا احرار الہند نامی ایک ایسی تنظیم کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جس کا کردار تمام جماعتوں اور مسلمانوں کی نظروں میں نہایت مشکوک ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس سے قبل امارت اسلامی افغانستان میں جنود خراسان کے نام سے بھی ایسی ہی ایک مشکوک تنظیم کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ’ان کا یہ منفی کردار جہادی جماعتوں میں افتراق اور انتشار پیدا کرنے کی خطرناک کوشش اور گھناونی سازش ہے۔‘

تحریک طالبان پاکستان ماضی میں اس مشکوک تنظیم سے کئی بار لاتعلقی کا اعلان کرچکی ہے لہذا تحریک اپنے کسی بھی رہنما یا عام ساتھی کو اس بات کی قطعا اجازت نہیں دےگی کہ وہ مسلسل تحریک کی پالیسی کو پامال کرےاور ایسی مشکوک اور منفی کردار میں ملوث جماعتوں سے تعلق رکھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان میں قیادت کے معاملے پر کافی کشیدگی چلی آ رہی ہے

احسان اللہ احسان کاجواب

ادھر جواب میں احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ وہ اپنی تحریک سے مولانافضل اللہ اور ان کے گرد موجود ٹولے کی رکنیت کے خاتمےکا اعلان کرتے ہیں ۔

ان کا اصرار تھا کہ تحریک ایسے ہاتھوں میں چلی گئی جوخالص ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کے اندر قائدانہ صلاحیتوں کی فقدان کی وجہ سے بہت سے مسائل نے جنم لیا اور نظم کےنہ ہونے سے ان کے اندر لڑائیاں شروع ہوگئی جس کی روک تھام کے لیے تحریک کے پاس کوئی پالیسی نہیں تھی۔

ان کا تحریک کی قیادت سے پوچھنا تھا کہ کمانڈر ندیم عباس عرف انتقامی جو کہ ضلع راولپنڈی کے امیر تھے کو کیوں قتل کیا گیا؟ ابھی تک ان پرکوئی شرعی فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا؟ حلقہ محسود کے 200 ہلاک شدگان کا خون کس کے ہاتھ پر ہے جو اپنے درمیان لڑائی میں مارے گئے تحریک نےان کے لیے کیا کِیا؟ عصمت اللہ شاہین بیٹنی کے قاتل کون ہے؟ طارق منصور آفریدی کو کس نے ہلاک کیا؟ اور قاتلوں کو سزا کیوں نہیں ہوتی جبکہ بقول ان کے قاتل مولانا فضل اللہ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ ’تو معلوم ہوتاہے کہ تحریک طالبان (فضل اللہ گروپ) کا نہ کوئی نظم ہے اور نہ کوئی وجود بلکہ یہ اب چند افراد کا ٹولہ رہ گیاہے جو کہ تحریک کے نام پر اپنی مفادات کی تکمیل کر رہی ہے۔‘

’رہی بات عمر خالد خراسانی صاحب کی معزولیت اور رکنیت کے خاتمے کی تواب یہ ان کا اختیار نہیں ہے امیر محترم خالد خراسانی اب جماعت الاحرار کے سرکردہ رہنما ہیں ان کی معزولیت جماعت الاحرار کی شوریٰ کا اختیار ہے اور مہمندایجنسی کے لیے امیر جماعت الاحرار کی شوریٰ ہی مقرر کرسکتی ہے کیونکہ جماعت الاحرار ہی اکثریتی شدت پسندوں کی جماعت ہے اور یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ جماعت الاحرار کے قائدین قاسم خراسانی، عمرخالدخراسانی اور قاری شکیل ہی تحریک کے بانی ارکان ہیں تحریک کے نام کے حقوق ہمارے پاس ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس کا ایک بین ثبوت یہ بھی ہے کہ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے خاندان ہمارے ہی نظم میں ہیں اور تحریک کے بانی ہونے کے ناطے ہم اسی طرح جنود خراسان نامی کسی تنظیم کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور جہاں تک احرارالہند کی بات ہے تو وہ مکمل طور پر واپس تحریک طالبان پاکستان (جماعت الاحرار) میں ضم ہوا ہے ان میں شامل مجاہدین کی اکثریت کا تعلق مالاکنڈ ڈویژن سے ہے۔‘

اسی بارے میں